noImage

بہرام جی

پارسی مذہبی عالم ،اردو کی ادبی روایات سے آشنا ہو کر اردو اور فارسی میں شاعری کی

پارسی مذہبی عالم ،اردو کی ادبی روایات سے آشنا ہو کر اردو اور فارسی میں شاعری کی

76
Favorite

باعتبار

پتا ملتا نہیں اس بے نشاں کا

لیے پھرتا ہے قاصد جا بجا خط

زاہدا کعبے کو جاتا ہے تو کر یاد خدا

پھر جہازوں میں خیال ناخدا کرتا ہے کیوں

ہے مسلماں کو ہمیشہ آب زمزم کی تلاش

اور ہر اک برہمن گنگ و جمن میں مست ہے

ظاہری وعظ سے ہے کیا حاصل

اپنے باطن کو صاف کر واعظ

نہیں دنیا میں آزادی کسی کو

ہے دن میں شمس اور شب کو قمر بند

میں برہمن و شیخ کی تکرار سے سمجھا

پایا نہیں اس یار کو جھنجھلائے ہوئے ہیں

ڈھونڈھ کر دل میں نکالا تجھ کو یار

تو نے اب محنت مری بیکار کی

نہیں بت خانہ و کعبہ پہ موقوف

ہوا ہر ایک پتھر میں شرر بند

کہتا ہے یار جرم کی پاتے ہو تم سزا

انصاف اگر نہیں ہے تو بیداد بھی نہیں

رشتۂ الفت رگ جاں میں بتوں کا پڑ گیا

اب بظاہر شغل ہے زنار کا فعل عبث

جا بجا ہم کو رہی جلوۂ جاناں کی تلاش

دیر و کعبہ میں پھرے صحبت رہباں میں رہے

عشق میں دل سے ہم ہوئے محو تمہارے اے بتو

خالی ہیں چشم و دل کرو ان میں گزر کسی طرح