Barq Dehlvi's Photo'

برق دہلوی

1884 - 1936

دلی کی شعری روایت کے متاخرین شاعروں میں شامل۔ اپنے ڈرامے ’کرشن اوتار‘ کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

دلی کی شعری روایت کے متاخرین شاعروں میں شامل۔ اپنے ڈرامے ’کرشن اوتار‘ کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

برق دہلوی کی اشعار

سر بکف ہند کے جاں باز وطن لڑتے ہیں

تیغ نو لے صف دشمن میں گھسے پڑتے ہیں

دن رات پڑا رہتا ہوں دروازے پہ اپنے

اس غم میں کہ کوئی کبھی آتا تھا ادھر سے

رہے گا کس کا حصہ بیشتر میرے مٹانے میں

یہ باہم فیصلہ پہلے زمین و آسماں کر لیں

شب فرقت نظر آتے نہیں آثار سحر

اتنی ظلمت ہے رخ شمع پہ بھی نور نہیں