Barq Dehlvi's Photo'

برق دہلوی

1884 - 1936

دلی کی شعری روایت کے متاخرین شاعروں میں شامل۔ اپنے ڈرامے ’کرشن اوتار‘ کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

دلی کی شعری روایت کے متاخرین شاعروں میں شامل۔ اپنے ڈرامے ’کرشن اوتار‘ کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

برق دہلوی کا تعارف

تخلص : 'برق'

اصلی نام : منشی مہاراج بہادر

پیدائش :دلی

وفات : 09 Feb 1936 | پانی پت, ہریانہ

دن رات پڑا رہتا ہوں دروازے پہ اپنے

اس غم میں کہ کوئی کبھی آتا تھا ادھر سے

منشی مہاراج برق کی ولادت جولائی 1884  کو دہلی کے ایک کائستھ گھرانے میں ہوئی ۔ ان کے آباواجداد کا قدیم وطن سنکٹ ضلع ایٹہ اترپردیش تھا ۔ خاندان کے مورث اعلی رائے جگ روپ بہادر ایٹہ کے ممتاز بزرگوں میں شمار ہوتے تھے ۔ اور ان کے بزرگ جو کئی پشتوں سے دہلی میں سکونت پذیر تھے مغل دور میں کئی اعلی عہدوں پر فائز رہے ۔ ان کے والد منشی ہرنرائن داس حسرت ایک خوش فکر شاعر تھے اور نانا دولت رام عبرت صاحب دیوان شاعر تھے اور استاد ذوق کے شاگردوں میں سے تھے ۔ برق حضرت آغا شاعر قزلباش سے اصلاح لیا کرتے تھے ۔

’’کرشن درپن ‘‘ ’’مطلع انوار ‘‘ اور ’’حرف ناتمام‘‘ ان کے شعری مجموعے ہیں ۔ شاعری کے علاوہ ابتدا میں انہوں نے ڈرامے بھی لکھے جن میں سے ’کرشن اوتار‘ اور ’ساوتری‘ کئی مرتبہ اسٹیج بھی کئے گئے ۔ 


موضوعات