noImage

بیاں احسن اللہ خان

1727 - 1798 | دلی, ہندوستان

ممتاز کلاسیکی شاعر، میرتقی میر کے ہم عصر

ممتاز کلاسیکی شاعر، میرتقی میر کے ہم عصر

غزل

جا کہے کوئے_یار میں کوئی

فصیح اکمل

جادو تھی سحر تھی بلا تھی

فصیح اکمل

جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیں

فصیح اکمل

دل اب اس دل_شکن کے پاس کہاں

فصیح اکمل

رات اس تنک_مزاج سے کچھ بات بڑھ گئی

فصیح اکمل

زلف تیری نے پریشاں کیا اے یار مجھے

فصیح اکمل

عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہے

فصیح اکمل

میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا

فصیح اکمل

نہ فقط یار بن شراب ہے تلخ

فصیح اکمل

کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھا

فصیح اکمل

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI