Ejaz Rahmani's Photo'

اعجاز رحمانی

1936 - 2019 | کراچی, پاکستان

ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو

ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے

تالاب تو برسات میں ہو جاتے ہیں کم ظرف

باہر کبھی آپے سے سمندر نہیں ہوتا

وہ ایک پل کی رفاقت بھی کیا رفاقت تھی

جو دے گئی ہے مجھے عمر بھر کی تنہائی

فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے

خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا

گزر رہا ہوں میں سودا گروں کی بستی سے

بدن پہ دیکھیے کب تک لباس رہتا ہے

جہاں پہ ڈوب گیا میری آس کا سورج

اسی جگہ وہ ستارہ شناس رہتا ہے