Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Faisal Qadri Gunnauri's Photo'

فیصل قادری گنوری

1995 | گُنّور, انڈیا

فیصل قادری گنوری کے اشعار

23
Favorite

باعتبار

ہر کسی شخص کے موافق ہے

ایسا لگتا ہے تو منافق ہے

کتنی بے رنگ زندگی ہے مری

عشق کے رنگ یار بھر دو نا

جنم لیتی ہیں نئی خواہشیں جب بھی دل میں

مفلسی ہے کہ وہیں ہاتھ پکڑ لیتی ہے

کبھی زیادہ کبھی کم اداس رہتا ہوں

تمہاری یاد میں ہر دم اداس رہتا ہوں

ہے ان میں کیسا جادو بولتی ہیں

تری آنکھیں بھی اردو بولتی ہیں

دل کا مرے پرندہ تمہارے قفس میں تھا

جب تک تمہارا ہاتھ مری دسترس میں تھا

تمہارے جیسا نہ دیکھا کوئی مرے ہمدم

حسین یوں تو جہاں میں مجھے ہزار ملے

تیرا آئینہ کہہ رہے ہیں مجھے

میری تصویر دیکھنے والے

ان کی ہزار کوششیں اور ضد الگ رہی

اپنی تو ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ رہی

وہ دیکھو لوگ شین الف عین رے ہوئے

ہم عین شین قاف میں الجھے ہی رہ گئے

کس کی خوشبو سے معطر یہ فضا ہونے لگی

گلبدن کون یہ گزرا ہے گلی سے میری

تیری خاطر جو ہوئی اس ہر شہادت کو سلام

سرزمین ہند تیری شان و شوکت کو سلام

زندگی مثل کہکشاں ہوتی

کاش میری بھی آج ماں ہوتی

تم جو چاہو وہ کرتے پھرتے ہو

ساری پابندیاں ہمی پر ہیں

جانے والا چلا گیا تو کیوں

اس کے جانے کا غم کیا جائے

جن کو اپنا سمجھ رہے تھے ہم

رنگ ان کو بدلتے دیکھ لیا

قیمت لگا رہے ہیں جو دیدار یار کی

واقف نہیں ہیں وہ ابھی راہوں سے پیار کی

ترے کرم سے جو دامن ہمارے بھر جائیں

حسد کی آگ میں جل جل کے لوگ مر جائیں

جانے والا چلا گیا تو کیوں

اس کے جانے کا غم کیا جائے

جن کو اپنا سمجھ رہے تھے ہم

رنگ ان کو بدلتے دیکھ لیا

ٹمٹماتے تھے جو چراغ کبھی

اب وہ قندیل ہونے والے ہیں

ترے کرم سے جو دامن ہمارے بھر جائیں

حسد کی آگ میں جل جل کے لوگ مر جائیں

کیسے اسے پتہ ہو کہ ممتا عظیم ہے

ہم جیسا کمسنی سے جو بچہ یتیم ہے

اس نے جب سے ہاتھ پکڑنا چھوڑ دیا

تب سے ہم نے ساتھ میں چلنا چھوڑ دیا

اب زندگی سے کوئی بھی شکوہ نہیں مجھے

تو مل گیا تو کوئی تمنا نہیں مجھے

ٹمٹماتے تھے جو چراغ کبھی

اب وہ قندیل ہونے والے ہیں

تمہارے جیسا نہ دیکھا کوئی مرے ہمدم

حسین یوں تو جہاں میں مجھے ہزار ملے

ایک ہم ہیں کہ زخم جھیلتے ہیں

ایک وہ ہیں کہ دل سے کھیلتے ہیں

سودا کبھی ضمیر کا میں نے کیا نہیں

صد شکر میں بھی عشق میں تاجر ہوا نہیں

اف ستم گر تری ادائیں بھی

یاد آتی ہیں دل جلاتی ہیں

ہم ایسے سارے ثبوتوں کو پھاڑ ڈالیں گے

ہمارے بیچ میں جو بھی دراڑ ڈالیں گے

کسی طرح تو ہمارا وصال ہو جائے

اگرچہ اس کے لیے انتقال ہو جائے

قیمت لگا رہے ہیں جو دیدار یار کی

واقف نہیں ہیں وہ ابھی راہوں سے پیار کی

تم جو چاہو وہ کرتے پھرتے ہو

ساری پابندیاں ہمی پر ہیں

سودا کبھی ضمیر کا میں نے کیا نہیں

صد شکر میں بھی عشق میں تاجر ہوا نہیں

یہ کیسا بوجھ ہے بھاری ہے دل پر

عجب سی کیفیت طاری ہے دل پر

زندگی مثل کہکشاں ہوتی

کاش میری بھی آج ماں ہوتی

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے