Fani Badayuni's Photo'

فانی بدایونی

1879 - 1941 | بدایوں, ہندوستان

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، اپنی شاعری کے اداس رنگ کے لیے معروف

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، اپنی شاعری کے اداس رنگ کے لیے معروف

غزل

آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹ

نعمان شوق

آہ اب تک تو بے_اثر نہ ہوئی

نعمان شوق

اب لب پہ وہ ہنگامۂ_فریاد نہیں ہے

نعمان شوق

اے اجل اے جان_فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیا

نعمان شوق

بے_خودی پہ تھا فانیؔ کچھ نہ اختیار اپنا

نعمان شوق

بے_ذوق_نظر بزم_تماشا نہ رہے_گی

نعمان شوق

تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے_گا

نعمان شوق

جب پرسش_حال وہ فرماتے ہیں جانیے کیا ہو جاتا ہے

نعمان شوق

جذب_دل جب بروئے_کار آیا

نعمان شوق

جلوۂ_عشق حقیقت تھی حسن_مجاز بہانہ تھا

نعمان شوق

دل اور دل میں یاد کسی خوش_خرام کی (ردیف .. م)

نعمان شوق

دل کی طرف حجاب_تکلف اٹھا کے دیکھ

نعمان شوق

دل کی کایا غم نے وہ پلٹی کہ تجھ سا بن گیا

نعمان شوق

دل کی ہر لرزش_مضطر پہ نظر رکھتے ہیں

نعمان شوق

رہ جائے یا بلا سے یہ جان رہ نہ جائے

نعمان شوق

زیست کا حاصل بنایا دل جو گویا کچھ نہ تھا

نعمان شوق

سوال_دید پہ تیوری چڑھائی جاتی ہے

نعمان شوق

قسم نہ کھاؤ تغافل سے باز آنے کی

نعمان شوق

گزر گیا انتظار حد سے یہ وعدۂ_ناتمام کب تک

نعمان شوق

مایۂ_ناز_راز ہیں ہم لوگ

نعمان شوق

مجھ کو مرے نصیب نے روز_ازل سے کیا دیا

نعمان شوق

مزاج_دہر میں ان کا اشارہ پائے جا

نعمان شوق

میرے لب پر کوئی دعا ہی نہیں

نعمان شوق

نام بدنام ہے ناحق شب_تنہائی کا

نعمان شوق

وادئ_شوق میں وارفتۂ_رفتار ہیں ہم

نعمان شوق

واہمہ کی یہ مشق_پیہم کیا

نعمان شوق

وہ پوچھتے ہیں ہجر میں ہے اضطراب کیا

نعمان شوق

وہ جی گیا جو عشق میں جی سے گزر گیا

نعمان شوق

ڈرو نہ تم کہ نہ سن لے کہیں خدا میری

نعمان شوق

کچھ بس ہی نہ تھا ورنہ یہ الزام نہ لیتے

نعمان شوق

کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا

نعمان شوق

کی وفا یار سے ایک ایک جفا کے بدلے

نعمان شوق

ہم موت بھی آئے تو مسرور نہیں ہوتے

نعمان شوق

یوں نظم_جہاں درہم_و_برہم نہ ہوا تھا

نعمان شوق

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI