فراغ روہوی کے دوہے
نفرت کے سنسار میں کھیلیں اب یہ کھیل
اک اک انساں جوڑ کے بن جائیں ہم ریل
بھول گئے ہر واقعہ بس اتنا ہے یاد
مال و زر پر تھی کھڑی رشتوں کی بنیاد
کیسی کیسی بولیاں جملے شبد انیک
دنیا بھر میں ہے مگر پیار کی بھاشا ایک
پوری کب ہو پائے گی میرے من کی بات
جتنی لمبی ہے کتھا اتنی چھوٹی رات