غزل 6

اشعار 6

جھوٹ سچ میں کوئی پہچان کرے بھی کیسے

جو حقیقت کا ہی معیار فسانہ ٹھہرا

وقت اک موج ہے آتا ہے گزر جاتا ہے

ڈوب جاتے ہیں جو لمحات ابھرتے کب ہیں

ہیں راکھ راکھ مگر آج تک نہیں بکھرے

کہو ہوا سے ہماری مثال لے آئے

اپنے ہی فن کی آگ میں جلتے رہے شمیمؔ

ہونٹوں پہ سب کے حوصلہ افزائی رہ گئی

دھوپ چھوتی ہے بدن کو جب شمیمؔ

برف کے سورج پگھل جاتے ہیں کیوں

کتاب 1

پیش رو : غزلیں

 

2000

 

تصویری شاعری 1

سلسلے خواب کے اشکوں سے سنورتے کب ہیں آج دریا بھی سمندر میں اترتے کب ہیں وقت اک موج ہے آتا ہے گزر جاتا ہے ڈوب جاتے ہیں جو لمحات ابھرتے کب ہیں یوں بھی لگتا ہے تری یاد بہت ہے لیکن زخم یہ دل کے تری یاد سے بھرتے کب ہیں لہر کے سامنے ساحل کی حقیقت کیا ہے جن کو جینا ہے وہ حالات سے ڈرتے کب ہیں یہ الگ بات ہے لہجے میں اداسی ہے شمیمؔ ورنہ ہم درد کا اظہار بھی کرتے کب ہیں

 

"اورنگ آباد" کے مزید شعرا

  • سراج اورنگ آبادی سراج اورنگ آبادی
  • مدحت الاختر مدحت الاختر
  • قاضی سلیم قاضی سلیم
  • عشق اورنگ آبادی عشق اورنگ آبادی
  • سکندر علی وجد سکندر علی وجد
  • بشر نواز بشر نواز
  • قمر اقبال قمر اقبال
  • صابر صابر
  • شاہ حسین نہری شاہ حسین نہری
  • جے پی سعید جے پی سعید