فاطمہ مہرو کا تعارف
فاطمہ مہرو جدید اردو نظم کی ایک نمائندہ آواز ہیں، جنہوں نے 2018 سے باقاعدہ ادبی سفر کا آغاز کیا۔ ان کی ابتدائی نظمیں اردو ادبی رسالے "تسطیر" میں شائع ہوئیں، بعد ازاں ان کے افسانے اور نظمیں اردو، انگریزی اور پنجابی کے مختلف جریدوں کی زینت بنتی رہیں۔ ممتاز اردو رسالے "لوح" میں ان کی غزلیں اور نظمیں شامل اشاعت ہوئیں، جبکہ ملکی و غیر ملکی رسائل میں نزار قبانی، چارلس بوکوسکی، عرفان ملک، آغا شاہد اور لورکا جیسے شعرا کی نظموں کے اردو تراجم بھی شائع ہوئے۔
فاطمہ مہرو اس وقت چارلس بوکوسکی اور لورکا کی منتخب نظموں کے ترجمے پر کام کر رہی ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ "دریا اور دریچے" 2021 میں منظرِ عام پر آیا، جب کہ دوسرا مجموعہ "نہ سنی گئی آوازیں" زیرِ اشاعت ہے۔ ان کی نظموں کے تراجم انگریزی، فارسی، بلوچی، سند ھی، سرائیکی، جرمن، تیلگو اور ہندی زبانوں میں بھی شائع ہو چکے ہیں، جو ان کی آواز کے بین الاقوامی اثرات کا ثبوت ہیں۔