فاطمہ مہرو کے اشعار
اک نظر سرسری دو چار ضروری باتیں
گھر میں رکھا کوئی اخبار سمجھتا ہے مجھے
میں ایک وہ ہوں جو آپ خود سے بھی مختلف ہے
میں وہ نہیں ہوں جو آپ مجھ کو سمجھ رہے تھے
جیسا جی میں آئے ویسا کر جانا
اتنا بھی آسان نہیں ہے مر جانا
وہ کوہ قاف کا جیسے مکین ہو گیا ہے
بچھڑ کے اور زیادہ حسین ہو گیا ہے
نہیں چراغ جلائیں گے اب کسی در پر
ہم آپ اپنی محبت مزار کر لیں گے
ترے ہجرت کے مارے بستیوں سے لڑ رہے ہیں
جنہیں یکسر ترے دل میں ٹھکانہ چاہیے تھا
چھوڑ جائیں گے تجھے چاند کے چرچے سن کر
چڑھتے سورج کے پجاری ہیں ترے دیوانے
اور اس سے پیشتر اس کو بھلا سکوں یکسر
اسے میں اس کی طرح یاد آنا چاہتی ہوں
آرزو ہے تجھے باتوں میں لگا کر اک دن
ایک محتاط سلیقے سے بکھرتا دیکھیں
تبھی تو دھندلی ہیں اس کی میری تمام راہیں
وہ مجھ کو کہرے کی چاند راتوں میں سوچتا ہے