Gopal Mittal's Photo'

گوپال متل

1901 - 1993 | دلی, ہندوستان

اپنے ادبی رسالے ’تحریک‘ کے لیے مشہور

اپنے ادبی رسالے ’تحریک‘ کے لیے مشہور

گوپال متل کی اشعار

مجھے زندگی کی دعا دینے والے

ہنسی آ رہی ہے تری سادگی پر

فطرت میں آدمی کی ہے مبہم سا ایک خوف

اس خوف کا کسی نے خدا نام رکھ دیا

کیا کیجئے کشش ہے کچھ ایسی گناہ میں

میں ورنہ یوں فریب میں آتا بہار کے

ترک تعلقات خود اپنا قصور تھا

اب کیا گلہ کہ ان کو ہماری خبر نہیں

خدا گواہ کہ دونوں ہیں دشمن پرواز

غم قفس ہو کہ راحت ہو آشیانے کی

اب شکوۂ سنگ و خشت کیسا

جب تیری گلی میں آ گیا ہوں

میرا ساقی ہے بڑا دریا دل

پھر بھی پیاسا ہوں کہ صحرا ہوں میں

فرق یہ ہے نطق کے سانچے میں ڈھل سکتا نہیں

ورنہ جو آنسو ہے در شاہوار نغمہ ہے

پھر ایک شعلۂ پر پیچ و تاب بھڑکے گا

کہ چند تنکوں کو ترتیب دے رہا ہوں میں