Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حقیر

غزل 10

اشعار 22

جانتا اس کو ہوں دوا کی طرح

چاہتا اس کو ہوں شفا کی طرح

کیا جانیں ان کی چال میں اعجاز ہے کہ سحر

وہ بھی انہیں سے مل گئے جو تھے ہمارے لوگ

حقارت کی نگاہوں سے نہ فرش خاک کو دیکھو

امیروں کا فقیروں کا یہی آخر کو بستر ہے

یا اس سے جواب خط لانا یا قاصد اتنا کہہ دینا

بچنے کا نہیں بیمار ترا ارشاد اگر کچھ بھی نہ ہوا

ٹوٹیں وہ سر جس میں تیری زلف کا سودا نہیں

پھوٹیں وہ آنکھیں کہ جن کو دید کا لپکا نہیں

  • شیئر کیجیے

کتاب 1

 

Recitation

بولیے