Hasan Abbas Raza's Photo'

حسن عباس رضا

1951 | راول پنڈی, پاکستان

288
Favorite

باعتبار

بچوں کے ساتھ آج اسے دیکھا تو دکھ ہوا

ان میں سے کوئی ایک بھی ماں پر نہیں گیا

جدائی کی رتوں میں صورتیں دھندلانے لگتی ہیں

سو ایسے موسموں میں آئنہ دیکھا نہیں کرتے

محبتیں تو فقط انتہائیں مانگتی ہیں

محبتوں میں بھلا اعتدال کیا کرنا

دھڑکتی قربتوں کے خواب سے جاگے تو جانا

ذرا سے وصل نے کتنا اکیلا کر دیا ہے

ہماری جیب میں خوابوں کی ریز گاری ہے

سو لین دین ہمارا دکاں سے باہر ہے

تجھ سے بچھڑ کے سمت سفر بھولنے لگے

پھر یوں ہوا ہم اپنا ہی گھر بھولنے لگے

ارادہ تھا کہ اب کے رنگ دنیا دیکھنا ہے

خبر کیا تھی کہ اپنا ہی تماشا دیکھنا ہے

تعلق توڑنے میں پہل مشکل مرحلہ تھا

چلو ہم نے تمہارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے

میں ترک تعلق پہ بھی آمادہ ہوں لیکن

تو بھی تو مرا قرض غم ہجر ادا کر

اس کا فراق اتنا بڑا سانحہ نہ تھا

لیکن یہ دکھ پہاڑ برابر لگا ہمیں

یہ کار عشق تو بچوں کا کھیل ٹھہرا ہے

سو کار عشق میں کوئی کمال کیا کرنا

سوا تیرے ہر اک شے کو ہٹا دینا ہے منظر سے

اور اس کے بعد خود کو بے سر و سامان کرنا ہے

شام وداع تھی مگر اس رنگ باز نے

پاؤں پہ ہونٹ رکھ دیے جانے نہیں دیا

کیا شخص تھا اڑاتا رہا عمر بھر مجھے

لیکن ہوا سے ہاتھ ملانے نہیں دیا

ہمیشہ اک مسافت گھومتی رہتی ہے پاؤں میں

سفر کے بعد بھی کچھ لوگ گھر پہنچا نہیں کرتے

کس کو تھی خبر اس میں تڑخ جائے گا دل بھی

ہم خوش تھے بہت صحن میں دیوار اٹھا کر

سوال یہ نہیں مجھ سے ہے کیوں گریزاں وہ

سوال یہ ہے کہ کیوں جسم و جاں سے باہر ہے

مکیں یہیں کا ہے لیکن مکاں سے باہر ہے

ابھی وہ شخص مری داستاں سے باہر ہے

آنکھوں سے خواب دل سے تمنا تمام شد

تم کیا گئے کہ شوق نظارہ تمام شد

میں پھر اک خط ترے آنگن گرانا چاہتا ہوں

مجھے پھر سے ترا رنگ بریدہ دیکھنا ہے