Hasan Akbar Kamal's Photo'

حسن اکبر کمال

1946 - 2017 | پاکستان

حسن اکبر کمال کی اشعار

106
Favorite

باعتبار

کل یہی بچے سمندر کو مقابل پائیں گے

آج تیراتے ہیں جو کاغذ کی ننھی کشتیاں

وفا پرچھائیں کی اندھی پرستش

محبت نام ہے محرومیوں کا

پایا جب سے زخم کسی کو کھونے کا

سیکھا فن ہم نے بے آنسو رونے کا

نہ ٹوٹے اور کچھ دن تجھ سے رشتہ اس طرح میرا

مجھے برباد کر دے تو مگر آہستہ آہستہ

دیے بجھاتی رہی دل بجھا سکے تو بجھائے

ہوا کے سامنے یہ امتحان رکھنا ہے

گئے دنوں میں رونا بھی تو کتنا سچا تھا

دل ہلکا ہو جاتا تھا جب اشک بہانے سے

دل میں ترے خلوص سمویا نہ جا سکا

پتھر میں اس گلاب کو بویا نہ جا سکا

ایک دیا کب روک سکا ہے رات کو آنے سے

لیکن دل کچھ سنبھلا تو اک دیا جلانے سے

بڑوں نے اس کو چھین لیا ہے بچوں سے

خبر نہیں اب کیا ہو حال کھلونے کا

بنائے جاتا تھا میں اپنے ہاتھ کو کشکول

سو میری روح میں خنجر اترتا جاتا تھا

کیا ترجمانیٔ غم دنیا کریں کہ جب

فن میں خود اپنا غم بھی سمویا نہ جا سکا