noImage

ہیرا لال فلک دہلوی

دلی, ہندوستان

108
Favorite

باعتبار

تن کو مٹی نفس کو ہوا لے گئی

موت کو کیا ملا موت کیا لے گئی

دیکھوں گا کس قدر تری رحمت میں جوش ہے

پروردگار مجھ کو گناہوں کا ہوش ہے

i will see to what extent your mercy is sublime

my lord I am aware of the nature of my crime

i will see to what extent your mercy is sublime

my lord I am aware of the nature of my crime

اپنا گھر پھر اپنا گھر ہے اپنے گھر کی بات کیا

غیر کے گلشن سے سو درجہ بھلا اپنا قفس

مل کے سب امن و چین سے رہئے

لعنتیں بھیجئے فسادوں پر

مرا خط پڑھ لیا اس نے مگر یہ تو بتا قاصد

نظر آئی جبیں پر بوند بھی کوئی پسینے کی

حال بیمار کا پوچھو تو شفا ملتی ہے

یعنی اک کلمۂ پرسش بھی دوا ہوتا ہے

نظروں میں حسن دل میں تمہارا خیال ہے

اتنے قریب ہو کہ تصور محال ہے

میں ترا جلوہ تو میرا دل ہے میرے ہم نشیں

میں تری محفل میں ہوں اور تو مری محفل میں ہے

میں نے انجام سے پہلے نہ پلٹ کر دیکھا

دور تک ساتھ مرے منزل آغاز گئی

نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی

گھڑ لو کوئی کہانی ہمارے قصور کی

ہم تو منزل کے طلب گار تھے لیکن منزل

آگے بڑھتی ہے گئی راہ گزر کی صورت

روشنی تیز کرو چاند ستارو اپنی

مجھ کو منزل پہ پہنچنا ہے سحر ہونے تک

چراغ علم روشن دل ہے تیرا

اندھیرا کر دیا ہے روشنی نے

پہنچو گر اک چاند پر سو اور آتے ہیں نظر

آسماں جانے ہے کتنی دور تک پھیلا ہوا

اے شام غم کی گہری خموشی تجھے سلام

کانوں میں ایک آئی ہے آواز دور کی

لوگ اندازہ لگائیں گے عمل سے میرے

میں ہوں کیسا مرے ماتھے پہ یہ تحریر نہیں

یاد اتنا ہے مرے لب پہ فغاں آئی تھی

پھر خدا جانے کہاں دل کی یہ آواز گئی

پرتو حسن ہوں اس واسطے محدود ہوں میں

حسن ہو جاؤں تو دنیا میں سما بھی نہ سکوں

کیا بات ہے نظروں سے اندھیرا نہیں جاتا

کچھ بات نہ کر لی ہو شب غم نے سحر سے

مقام برق جسے آسماں بھی کہتے ہیں

ارادہ اب ہے وہاں اپنا گھر بنانے کا

اب کہے جاؤ فسانے مری غرقابی کے

موج طوفاں کو مرے حق میں تھا ساحل ہونا

وسعت طلسم خانۂ عالم کی کیا کہوں

تھک تھک گئی نگاہ تماشے نہ کم ہوئے