noImage

انعام اللہ خاں یقین

1727 - 1755 | دلی, ہندوستان

میر تقی میرؔ کے ہم عصر اور ان کے حریف کے طور پر مشہور۔ انہیں ان کے والد نے قتل کیا

میر تقی میرؔ کے ہم عصر اور ان کے حریف کے طور پر مشہور۔ انہیں ان کے والد نے قتل کیا

انعام اللہ خاں یقین کے اشعار

296
Favorite

باعتبار

چشم تر پر گر نہیں کرتا ہوا پر رحم کر

دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاں

کیا بدن ہوگا کہ جس کے کھولتے جامے کا بند

برگ گل کی طرح ہر ناخن معطر ہو گیا

حق مجھے باطل آشنا نہ کرے

میں بتوں سے پھروں خدا نہ کرے

دوستی بد بلا ہے اس میں خدا

کسی دشمن کو مبتلا نہ کرے

خلوت ہو اور شراب ہو معشوق سامنے

زاہد تجھے قسم ہے جو تو ہو تو کیا کرے

عمر فریاد میں برباد گئی کچھ نہ ہوا

نالہ مشہور غلط ہے کہ اثر کرتا ہے

اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہے

نرا برا نہیں یہ شغل کچھ بھلا بھی ہے

یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے

اگر پیوے کوئی ان کو تو جل کر خاک ہو جاوے

سو سو ہیں التفات تغافل میں یار کے

بیگانگی سے اس کی کوئی آشنا نہیں

مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں

جنس تو ہے پہ زلیخا سا خریدار کہاں

اس اشک و آہ میں سودا بگڑ نہ جائے کہیں

یہ دل کچھ آب رسیدہ ہے کچھ جلا بھی ہے

تصور اس دہان تنگ کا رخصت نہیں دیتا

جو ٹک دم مار سکتے ہم تو کچھ فکر سخن کرتے

سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھا

ہمیں ظل ہما سے سایۂ دیوار بہتر تھا