noImage

انعام اللہ خاں یقین

1727 - 1755 | دلی, ہندوستان

میر تقی میرؔ کے ہم عصر اور ان کے حریف کے طور پر مشہور۔ انہیں ان کے والد نے قتل کیا

میر تقی میرؔ کے ہم عصر اور ان کے حریف کے طور پر مشہور۔ انہیں ان کے والد نے قتل کیا

114
Favorite

باعتبار

کیا بدن ہوگا کہ جس کے کھولتے جامے کا بند

برگ گل کی طرح ہر ناخن معطر ہو گیا

حق مجھے باطل آشنا نہ کرے

میں بتوں سے پھروں خدا نہ کرے

lord by falsehood may I not be led astray

may I from these idols, never turn away

یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے

اگر پیوے کوئی ان کو تو جل کر خاک ہو جاوے

دوستی بد بلا ہے اس میں خدا

کسی دشمن کو مبتلا نہ کرے

خلوت ہو اور شراب ہو معشوق سامنے

زاہد تجھے قسم ہے جو تو ہو تو کیا کرے

اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہے

نرا برا نہیں یہ شغل کچھ بھلا بھی ہے

عمر فریاد میں برباد گئی کچھ نہ ہوا

نالہ مشہور غلط ہے کہ اثر کرتا ہے

اس اشک و آہ میں سودا بگڑ نہ جائے کہیں

یہ دل کچھ آب رسیدہ ہے کچھ جلا بھی ہے

مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں

جنس تو ہے پہ زلیخا سا خریدار کہاں

سو سو ہیں التفات تغافل میں یار کے

بیگانگی سے اس کی کوئی آشنا نہیں

چشم تر پر گر نہیں کرتا ہوا پر رحم کر

دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاں

تصور اس دہان تنگ کا رخصت نہیں دیتا

جو ٹک دم مار سکتے ہم تو کچھ فکر سخن کرتے

سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھا

ہمیں ظل ہما سے سایۂ دیوار بہتر تھا