اسمٰعیل وفا کا تعارف
مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ 2007 سے دامنِ ادب سے وابستہ ہیں اور ایک سنجیدہ نوجوان مورخ اور قلمکار کی حیثیت سے معروضی، سوانحی اور غیر افسانوی ادب میں سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کا اسلوب سادہ، سلیس اور علمی ہے، جس میں تحقیق، حوالہ اور تاریخی شعور نمایاں نظر آتا ہے۔
مالیگاؤں کے مقامی ادبی سرمائے کی اشاعت و تدوین ان کی ادبی خدمات کا نمایاں پہلو ہے۔ اب تک ان کی ذنبيلِ ادب میں دس کتابیں شامل ہو چکی ہیں۔ ان کی تصنیف „رفتگاں کے گلاب چہرے“ بھارتی ڈاک ٹکٹوں پر وارد ہونے والی مسلم شخصیات پر مبنی مضامین کا مجموعہ ہے، جس پر انہیں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ 2020 سے نوازا گیا۔
ان کی تازہ کتاب „آزادی کا امرت مہوتسو اور اردو“ نے قومی سطح پر ناقدین اور قارئین کی توجہ حاصل کی ہے اور اردو کے قومی و تاریخی کردار پر ایک اہم دستاویزی اضافہ سمجھی جاتی ہے۔