Javed Kamal Rampuri's Photo'

جاوید کمال رامپوری

1930 - 1978 | رام پور, ہندوستان

437
Favorite

باعتبار

پھر کئی زخم دل مہک اٹھے

پھر کسی بے وفا کی یاد آئی

ہاتھ پھر بڑھ رہا ہے سوئے جام

زندگی کی اداسیوں کو سلام

اب تو آ جاؤ رسم دنیا کی

میں نے دیوار بھی گرا دی ہے

اگر سکون سے عمر عزیز کھونا ہو

کسی کی چاہ میں خود کو تباہ کر لیجے

ہائے وہ لوگ ہم سے روٹھ گئے

جن کو چاہا تھا زندگی کی طرح

وہی بے وجہ اداسی وہی بے نام خلش

راہ و رسم دل ناکام سے جی ڈرتا ہے

دن کے سینے میں دھڑکتے ہوئے لمحوں کی قسم

شب کی رفتار سبک گام سے جی ڈرتا ہے

ہم آگہی کو روتے ہیں اور آگہی ہمیں

وارفتگئ شوق کہاں لے چلی ہمیں

آئی تھی چند گام اسی بے وفا کے ساتھ

پھر عمر بھر کو بھول گئی زندگی ہمیں

دروازوں کے پہرے ہیں دیواروں کے سنگینیں

ہوتا جو مرے بس میں اس گھر سے نکل جاتا