Javed Vashisht's Photo'

جاوید وششٹ

1920 - 1994 | دلی, ہندوستان

کانٹوں پہ چلے ہیں تو کہیں پھول کھلے ہیں

پھولوں سے ملے ہیں تو بڑی چوٹ لگی ہے

یہ تو وقت وقت کی بات ہے ہمیں ان سے کوئی گلہ نہیں

وہ ہوں آج ہم سے خفا خفا کبھو ہم سے ان کو بھی پیار تھا

غم سے احساس کا آئینہ جلا پاتا ہے

اور غم سیکھے ہے آ کر یہ سلیقہ مجھ سے

درد کی آنچ بنا دیتی ہے دل کو اکسیر

درد سے دل ہے اگر درد نہیں دل بھی نہیں

آنکھ اٹھاؤ تو حجابات کا اک عالم ہے

دل سے دیکھو تو کوئی راہ میں حائل بھی نہیں

آج اپنے بھی پرائے سے نظر آتے ہیں

پیار کی رسم زمانے سے اٹھی جاتی ہے

مدت سے رہی فرش تری راہ گزر میں

تب جا کے ستاروں سے کہیں آنکھ لڑی ہے

کوئی خیال کوئی یاد کوئی تو احساس

ملا دے آج ذرا آ کے ہم کو خود ہم سے