Kaifi Azmi's Photo'

کیفی اعظمی

1918 - 2002 | ممبئی, ہندوستان

مقبول عام، ممتاز، ترقی پسند شاعر اور فلم نغمہ نگار۔ ہیر رانجھا اور کاغذ کے پھول کے گیتوں کے لئے مشہور

مقبول عام، ممتاز، ترقی پسند شاعر اور فلم نغمہ نگار۔ ہیر رانجھا اور کاغذ کے پھول کے گیتوں کے لئے مشہور

تخلص : 'کیفی'

اصلی نام : سید اطہرحسین رضوی

پیدائش : 14 Jan 1918 | اعظم گڑہ, اتر پردیش

وفات : 10 May 2002 | ممبئی, مہاراشٹر

اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑے

ہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑے

 

"میں جب بھی کبھی کیفی اعظمی کے کلام کا موازنہ ان کے دوسرے معاصرین کرتا ہوں تو ہمیشہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہوں کہ وہ اردو شاعری میں ترقی پسند تحریک کی اہم تریں آوازوں میں سے فیض اور مخدوم کے بعد تیسری بڑی آواز ہیں" شمیم حنفی

کیفی اعظمی اک مقبول ترقی پسند شاعر تھے جنھوں نے  ابتدائی عمر میں رومانیت میں ڈوبی ہوئی نظمیں لکھیں  لیکن پھر قوم پرسی اور آزادی کے گیت  گانے لگے ۔اس کے بعد جب وہ مارکسزم سے متاثر ہوئے اور کمیونسٹ پارٹی  کے ہمہ وقتی رکن بن گئے تو انھوں نے فنکارانہ طریقہ سے انقلابی نظریات پیش کئے اور اور ملکی و غیر ملکی سیاسی واقعات پر  دلچسپ اور پُر اثر نظمیں لکھیں ۔انھوں نے عوام کے سکھ دکھ کو اپنی نظموں میں اس طرح سمویا ہے کہ  فن اور موضوع یکجان ہو جاتے ہیں ۔کیفی نے مارکسی نظریہ کے زیر اثر معاشرے کے طبقاتی تصادم اور سماجی استحصال کو اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہوئے انقلاب کا نعرہ  لگایا اور استحصال سے پاک معاشرہ کی تشکیل کا خواب دیکھا۔انھوں نے جس وقت شاعری شروع کی  اس وقت انقلابی شاعری کا زور تھا اس لئے ان کے کلام میں بھی خطابت،بلند آہنگی  مقصدیت اور ادب کے نام پر  کھلے ہوئے اشتراکی پروپیگنڈے  کے نقوش دیکھنے کو ملتے ہیں۔کیفی کی مثنوی "خانہ جنگی" کو اردو کی پہلی سیاسی مثنوی کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اپنے پیشرووں اور قدیم  شعراء کے اسالیب سے بھی بھر پور  استفادہ کیا  ۔وہ انیس، حالی شبلی، اقبال،اور جوش ملیح ابادی سے متاثر تھے اور ان کے کللام میں جا بجا ان شعراء کے اسالیب کے نشانات ملتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی خطابت اور بلند آہنگی کے باوجود  اپنی انفرادیت کی کوئی گہری چھاپ نہیں چھوڑ سکے۔فلموں میں البتہ ان کو غیر معمولی شہرت اور کامیابی ملی ۔وہ فلمی دنیا کے ان گنے چنے ادیبوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے نغمہ نگاری کے ساتھ ساتھ فلموں کی کہانیاں ،مکالمے  اور منظر نامے لکھے۔فلم ہیررانجھا کے تمام مکالمے منظوم لکھنا ان کا ایسا کارنامہ ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔

کیفی اعظمی اعظم گڑھ کے اک چھوٹے سے گاؤں مجواں میں  15 اگست 1918ء کو پپیدا ہوئے۔ان کا اصل نام سید اطہر حسین رضوی تھا۔ ان کے والد  سید فتح حسین رضوی زمیندار تھے۔گھر میں ابتدائی تعلیم کے بعد کیفی کا  داخلہ عالم بننے کے لئے لکھنؤ کے شیعہ مدرسہ سلطان المدارس میں  چودہ پپندرہ سال کی عمر میں کرایا گیا۔ کیفی نے دیکھا کہ مدرسہ میں کئی طرح کی اخلاقی اور انتظامی خرابیاں  ہیں انھوں نے وہاں طلبا کی اک انجمن بنا ڈالی اور اس کے مطالبات انتظامیہ کو پیش کئے جو نامنظور کر دئے گئے ۔اس پر طلبا نے ہڑتال کی۔ہڑال کے زمانہ میں کیفی نے پرجوش نطمیں لکھ لکھ کر ساتھیوں کا جوش بڑھایا۔اس تعطل میں مدرسہ بند کر دیا گیا اور تقریبا" ڈیڑھ سال بعد کھلا تو کیفی کو وہاں سے خارج کر دیا گیا۔اس کے بعد انھوں نے لکھنؤ اور الہ اباد یونیورسٹیوں سے فارسی میں دبیر کامل اور عربی میں عالم کی اسناد حاصل کیں۔اسی زمانہ میں ان کو اک کشمیری لڑکی سے،جسے وہ اردو پڑھاتے تھے عشق ہو گیا   جس کے نتیجہ میں  ان کو لکھنؤ چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔لکھنؤ سے وہ کانپور چلے گئے جو شمالی ہندوستان میں مزدوروں کی تحریک کا سب سے بڑا مرکز تھا ۔ یہاں کیفی مزدوروں کی تحریک سے وابستہ ہو گئے اور یہیں انھوں نے مارکسزم  کا مطالعہ کیا۔جب کیفی پوری طرح کمیونسٹ بن گئے تو سجّاد ظہیر ان کو اپنے ساتھ بمبئی لے گئے۔بمبئی مین کمیونسٹوں نے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا اور وہ کمیونسٹ پارتی کے ہمہ وقتی کارکن بن گئے۔وہ کمیون میں داخل ہو کر مزدوروں میں رہنے لگے،ان کو اپنے شعر سناتے ، ان کے دکھ درد سننتے،اور پارٹی کے ترجمان "قومی جنگ" میں لکھتے پھر بمبئی کی سڑکوں پر اسے فروخت کرتے۔1943ء میں ان کا پہلا مجموعہ کلام شائع ہوا۔اکتوبر 1945ء میں  حیدر اباد  میں ترقی پسند مصنفین کی اک کانفرنس میں ان کی ملاقات  شوکت خانم سے ہوئی اور دونوں اک دوسرے کو دل دے بیٹھے۔پھر 23 مئی 1947 کو  سردار جعفری نے   طرفین کے والدین کی رضامندی سے ان کی شادی کرا دی۔آزادی کے بعد حکومت کی طرف سے کمیونسٹ پارٹی پر  مختلف قسم کی پابندیاں عاید کی گئیں ۔پارٹی کے بہت سے  کارکن جیل میں ڈال دئے گئے باقی روپوش  یا تائب ہو گئے۔کیفی کو بھی بہت دنوں تک روپوش رہنا پڑا'اس زمانہ  تک کیفی کی مالی حال بہت سقیم تھی ان کو پارٹی کی طرف سے 45 روپے ملتے تھے جن مین سے30روپے کھانے کی مد میں کٹ کر صرف 15 روپے ہاتھ آتے تھے۔اس مفلسی میں ان کا پہلا بچہ صحیح علاج نہ ہو سکنے کے باعث فوت ہو گیا۔پھر جب شبانہ اعظمی پیدا ہوئیں تو ان کو پیسہ کمانے کی فکر لگی۔شوکت خانم نے تھیٹر میں ملازمت کر لی اور کیفی نے فلموں  کی طرف توجہ کی۔سب سے پہلے شاہد لطیف نے ان سے اپنی فلم بزدل کے لئے دو گانے لکھواے اور ایک ہزار روپیہ معاوضہ دیا ۔۔اس کے بعد کیفی کی فلموں سے وابستگی بڑھ گئی۔انھوں نے فلموں کے گیت لکھنے کے ساتھ  ساھ مکالمے اور منظر نامے بھی لکھے۔انھیں تین فلم فیر ایوارڈ ملے۔کاغذ کے پھول،حقیقت،ہیر رانجھا اور گرم ہوا ان کی   اہم فلمیں ہیں۔ 1962 کی ہند-چین جنگ کے بعد کمیونسٹ پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تو  کیفی اعظمی نے محسوس کیا کہ  معاشی انقلاب صرف کمیونسٹ پپارٹی کے بس کی بات نہیں۔انھوں نے بمبئی میں نوجوانوں کی کئی انجمنیں تشکیل دیں  تا کہ عوام میں بھائی چارہ اور جوش عمل پیدا کیا جاے۔انھوں نے انڈین پیوپلز تھیٹر کی از سر نو  تنظیم کی  اور 1971 میں اس کی صدارت سنبھالی۔9 فروری 1973 کو  ان پر فالج کا شدید حملہ ہوا ۔1974 میں وہ روس گئے اور وہاں سے  صحتیاب ہو کر لوٹے۔زندگی کے آخری ایّام انھوں نے اپنے گاؤں میں گزارے جہاں انھوں نے بہت سے  ترقیاتی کام کئے ضعیفی کی وجہ سے انھیں کئی امراض لاحق تھے۔ جب ان  کی حالت زیادہ خراب ہوئی تو شبانہ اعظمی ان کو بمبئی لے آئیں لیکن 10  مئی 2992ء کو دل کا دورہ پڑنے سے ان کاا نتقال ہو گیا۔

کیفی اعظمی کو زندگی میں بہت سے ایوارڈ ملے۔"آوارہ سجدے "کے لئے ان کو ساہتیہ اکیڈمی اور اتر پردیش و مہاراشر اردو اکیڈمیوں کی جانب سے ایوارڈ  دئے گئے۔ان کو سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ بھی ملا۔مہاراشٹرسرکار نے ان کی ادبی خدمات کے لئے ایک لاکھ روپے کا گورو ایوارڈ دیا جبکہ دلّی سرکار نے ان کو گیارہ لاکھ روپے کا ملینیم انعام دیا۔وہ بین الاقوامی لوٹس ایوارڈ سے بھی نوازے گئے۔پدم شری کا اعزاز انھوں نے اردو کے ساتھ حکومت کی  نا انصافی پر احتجاج کرتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
                                                                                                                                                                                                                               کیفی اعظمی ترقی پسند تحریک اور ترقی پسند شاعری میں ممتاز  اور غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔وہ نظریاتی شاعر تھے پھر بھی اپنی رومانی فطرت کی وجہ سے ان یہاں اک غنائیت بھی پائی جاتی ہے۔انھوں نے اپنے عہد کے اہم موضوعات و واقعات کو خلیقی طور پر محسوس کیا  اور پھر اپنے مخصوص انداز میں پیش کر دیا۔انکےآخری دور کے کلام میں حقیقت پسندی ملتی ہے۔ان کی نظمیں فکر و فن کے اعلی معیار پر پوری اترتی ہیں  اور اردو شاعری میں اہم مقام کی حامل رہیں گی۔