کیلاش ماہر کے شعر

تم بھی اس شہر میں بن جاؤ گے پتھر جیسے

ہنسنے والا یہاں کوئی ہے نہ رونے والا

جانے کیا سوچ کے ہم تجھ سے وفا کرتے ہیں

قرض ہے پچھلے جنم کا سو ادا کرتے ہیں

رشتۂ درد کی میراث ملی ہے ہم کو

ہم ترے نام پہ جینے کی خطا کرتے ہیں