Krishn Bihari Noor's Photo'

کرشن بہاری نور

1926 - 2003 | لکھنؤ, ہندوستان

مقبول عام شاعر، لکھنوی زبان و تہذیب کے نمائندے

مقبول عام شاعر، لکھنوی زبان و تہذیب کے نمائندے

تخلص : 'نور'

اصلی نام : کرشن بہاری

پیدائش : 08 Nov 1926 | لکھنؤ, ہندوستان

وفات : 30 May 2003 | غازی آباد, ہندوستان

Relatives : فضل لکھنوی (استاد) , گووند گلشن (شاگرد)

چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو

آئنہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

in golden frame you may display

untruth the mirror will not say

in golden frame you may display

untruth the mirror will not say

نام کرشن بہاری اور نور تخلص تھا۔ ۸؍ نومبر۱۹۲۵ء کو لکھنؤ میں پید اہوئے۔ان کی ادبی زندگی کا آغاز ۱۹۴۲ء سے ہوا جب وہ مولانا ظفر عباس نقوی، فضل لکھنؤ کے حلقۂ تلامذہ میں داخل ہوئے۔ نور صاحب محکمۂ پوسٹل اینڈ ٹیلی گراف میں ملازم تھے اور ایک ذمے دار عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ’’دکھ سکھ‘‘ کے نام سے ان کا ایک شعری مجموعہ ۱۹۷۷ء میں اترپردیش اردواکادمی کے مالی اشتراک سے شائع ہوا۔’’تپسیا‘‘ بھی ا ن کی تصنیف ہے۔ایک مجموعۂ دیوناگری میں بھی ’’سمندر میری تلاش میں ہے‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اترپردیش اردو اکادمی نے ان کی ادبی خدمات پر انعام دیا۔ ۲۰؍مئی ۲۰۰۳ء کو غازی آباد میں وفات پاگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:175