Majrooh Sultanpuri's Photo'

مجروح سلطانپوری

1919 - 2000 | ممبئی, ہندوستان

ہندوستان کے ممتاز ترین ترقی پسند غزل گو شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ دادا صاحب پھالکے اعزاز سے سرفراز

ہندوستان کے ممتاز ترین ترقی پسند غزل گو شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ دادا صاحب پھالکے اعزاز سے سرفراز

غزل

آ نکل کے میداں میں دو_رخی کے خانے سے

مجروح سلطانپوری

آ نکل کے میداں میں دو_رخی کے خانے سے

مجروح سلطانپوری

آ ہی جائے_گی سحر مطلع_امکاں تو کھلا

نعمان شوق

آہ_جاں_سوز کی محرومی_تاثیر نہ دیکھ

نعمان شوق

اب اہل_درد یہ جینے کا اہتمام کریں

نعمان شوق

اہل_طوفاں آؤ دل_والوں کا افسانہ کہیں

مجروح سلطانپوری

بہ_نام_کوچۂ_دل_دار گل برسے کہ سنگ آئے

مجروح سلطانپوری

تقدیر کا شکوہ بے_معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں

نعمان شوق

جب ہوا عرفاں تو غم آرام_جاں بنتا گیا

نعمان شوق

جلا کے مشعل_جاں ہم جنوں_صفات چلے

نعمان شوق

جلا کے مشعل_جاں ہم جنوں_صفات چلے

مجروح سلطانپوری

جلوۂ_گل کا سبب دیدۂ_تر ہے کہ نہیں

نعمان شوق

چمن ہے مقتل_نغمہ اب اور کیا کہیے

مجروح سلطانپوری

خنجر کی طرح بوئے_سمن تیز بہت ہے

نعمان شوق

دست_منعم مری محنت کا خریدار سہی

مجروح سلطانپوری

دشمن کی دوستی ہے اب اہل_وطن کے ساتھ

مجروح سلطانپوری

دشمن کی دوستی ہے اب اہل_وطن کے ساتھ

نعمان شوق

سوئے_مقتل کہ پئے سیر_چمن جاتے ہیں

نعمان شوق

سوئے_مقتل کہ پئے سیر_چمن جاتے ہیں

مجروح سلطانپوری

سکھائیں دست_طلب کو ادائے_بیباکی (ردیف .. ن)

نعمان شوق

گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہے

نعمان شوق

مجھ سے کہا جبریل_جنوں نے یہ بھی وحی_الٰہی ہے

مجروح سلطانپوری

مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے

مجروح سلطانپوری

مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے

مجروح سلطانپوری

مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے

نعمان شوق

مسرتوں کو یہ اہل_ہوس نہ کھو دیتے

نعمان شوق

نگاہ_ساقیٔ_نامہرباں یہ کیا جانے

نعمان شوق

وہ تو گیا یہ دیدۂ_خوں_بار دیکھیے

نعمان شوق

ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم_نشینوں کو

نعمان شوق

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ

نعمان شوق

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ

مجروح سلطانپوری

ہم ہیں متاع_کوچہ_و_بازار کی طرح

نعمان شوق

ہم ہیں متاع_کوچہ_و_بازار کی طرح

مجروح سلطانپوری

ہمیں شعور_جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے

مجروح سلطانپوری

ہمیں شعور_جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے

نعمان شوق

ہمیں شعور_جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے

مجروح سلطانپوری

یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں

نعمان شوق

جلا کے مشعل_جاں ہم جنوں_صفات چلے

مجروح سلطانپوری

چمن ہے مقتل_نغمہ اب اور کیا کہیے

مجروح سلطانپوری

آ ہی جائے_گی سحر مطلع_امکاں تو کھلا

شکیل جمالی

جب ہوا عرفاں تو غم آرام_جاں بنتا گیا

شکیل جمالی

خنجر کی طرح بوئے_سمن تیز بہت ہے

شکیل جمالی

سوئے_مقتل کہ پئے سیر_چمن جاتے ہیں

شکیل جمالی

سوئے_مقتل کہ پئے سیر_چمن جاتے ہیں

مجروح سلطانپوری

گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہے

مجروح سلطانپوری

گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہے

شکیل جمالی

وہ تو گیا یہ دیدۂ_خوں_بار دیکھیے

شکیل جمالی

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ

شکیل جمالی

ہم ہیں متاع_کوچہ_و_بازار کی طرح

مجروح سلطانپوری

ہم ہیں متاع_کوچہ_و_بازار کی طرح

شکیل جمالی

ہمیں شعور_جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے

مجروح سلطانپوری

ہمیں شعور_جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے

شکیل جمالی

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI