Makhmoor Saeedi's Photo'

مخمور سعیدی

1938 - 2010 | دلی, ہندوستان

ممتازجدید شاعر/ رسالہ ’تحریک‘ سے وابستگی

ممتازجدید شاعر/ رسالہ ’تحریک‘ سے وابستگی

مخمور سعیدی کے دوہے

صاف بتا دے جو تو نے دیکھا ہے دن رات

دنیا کے ڈر سے نہ رکھ دل میں دل کی بات

ڈوبنے والوں پر کسے دنیا نے آوازے

ساحل سے کرتی رہی طوفاں کے اندازے

کون مسافر کر سکا منزل کا دیدار

پلک جھپکتے کھو گئے راہوں کے آثار

تنہا تو رہ جائے گا کوئی نہ ہوگا ساتھ

جیسے ہی یہ لوگ ہیں پکڑ انہی کا ہاتھ

کچھ کہنے تک سوچ لے اے بد گو انسان

سنتے ہیں دیواروں کے بھی ہوتے ہیں کان

روش روش پر باغ ہیں کانٹے کلیاں پھول

میں نے کانٹے چن لیے ہوئی یہ کیسی بھول