میر فیض علی کے اشعار
دن رات آگ ہی میں دل کو لٹا رہے ہیں
داغ فراق اس کے چھاتی جلا رہے ہیں
کبھی اس زلف سے ٹک لگ چلے ہوں تو کہیں تم سے
دل پر آرزو رکھتے ہیں یوں ہی مار مار اپنا
یہ ترک چشم ترے مست ہیں جواں دونوں
کہ سو رہے ہیں تلے سر کے رکھ کماں دونوں
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere