Meeraji's Photo'

میراجی

1912 - 1949 | ممبئی, ہندوستان

جدید اردو نظم کے بنیاد سازوں میں شامل ، کہتے ہیں انہوں نے اپنی خیالی محبوبہ میراسین کے نام پر اپنا نام ’میراجی‘ کر لیا تھا

جدید اردو نظم کے بنیاد سازوں میں شامل ، کہتے ہیں انہوں نے اپنی خیالی محبوبہ میراسین کے نام پر اپنا نام ’میراجی‘ کر لیا تھا

نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا

کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا

غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا کیا اب تم سے بیان کریں

غم بھی راس آیا دل کو اور ہی کچھ سامان کریں

میرؔ ملے تھے میراجیؔ سے باتوں سے ہم جان گئے

فیض کا چشمہ جاری ہے حفظ ان کا بھی دیوان کریں