Meraj Faizabadi's Photo'

معراج فیض آبادی

1941 - 2013 | لکھنؤ, ہندوستان

ہمیں پڑھاؤ نہ رشتوں کی کوئی اور کتاب

پڑھی ہے باپ کے چہرے کی جھریاں ہم نے

پیاس کہتی ہے چلو ریت نچوڑی جائے

اپنے حصے میں سمندر نہیں آنے والا

مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ

میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

جو کہہ رہے تھے کہ جینا محال ہے تم بن

بچھڑ کے مجھ سے وہ دو دن اداس بھی نہ رہے

یوں ہوا پھر بند کر لیں اس نے آنکھیں ایک دن

وہ سمجھ لیتا تھا دل کا حال چہرہ دیکھ کر

آج بھی گاؤں میں کچھ کچے مکانوں والے

گھر میں ہمسائے کے فاقہ نہیں ہونے دیتے