noImage

مغیث الدین فریدی

1926 | دلی, انڈیا

مغیث الدین فریدی کے اشعار

اس دور میں انسان کا چہرہ نہیں ملتا

کب سے میں نقابوں کی تہیں کھول رہا ہوں

تری اداؤں کی سادگی میں کسی کو محسوس بھی نہ ہوگا

ابھی قیامت کا اک کرشمہ حیا کے دامن میں پل رہا ہے

صرف الفاظ پہ موقوف نہیں لطف سخن

آنکھ خاموش اگر ہے تو زباں کچھ بھی نہیں

اب کسی درد کا شکوہ نہ کسی غم کا گلا

میری ہستی نے بڑی دیر میں پایا ہے مجھے

ہے فریدیؔ عجب رنگ بزم جہاں مٹ رہا ہے یہاں فرق سود و زیاں

نور کی بھیک تاروں سے لینے لگا آفتاب اپنی اک اک کرن بیچ کر

ہم نے مانگا تھا سہارا تو ملی اس کی سزا

گھٹتے بڑھتے رہے ہم سایۂ دیوار کے ساتھ

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے