noImage

مغیث الدین فریدی

1926 | دلی, ہندوستان

غزل 15

اشعار 6

اس دور میں انسان کا چہرہ نہیں ملتا

کب سے میں نقابوں کی تہیں کھول رہا ہوں

ہے فریدیؔ عجب رنگ بزم جہاں مٹ رہا ہے یہاں فرق سود و زیاں

نور کی بھیک تاروں سے لینے لگا آفتاب اپنی اک اک کرن بیچ کر

تری اداؤں کی سادگی میں کسی کو محسوس بھی نہ ہوگا

ابھی قیامت کا اک کرشمہ حیا کے دامن میں پل رہا ہے

صرف الفاظ پہ موقوف نہیں لطف سخن

آنکھ خاموش اگر ہے تو زباں کچھ بھی نہیں

  • شیئر کیجیے

اب کسی درد کا شکوہ نہ کسی غم کا گلا

میری ہستی نے بڑی دیر میں پایا ہے مجھے

کتاب 7

انتخاب غزلیات حافظ مع فرہنگ

 

1975

انتخاب مثنویات اردو

 

1981

انتخاب قصائد اردو

 

1964

کفر تمنا

 

1987

منتخب ادبی خطوط

 

 

شفق

جلد۔025

1953

کتاب نما

شمارہ نمبر۔000

1994

 

"دلی" کے مزید شعرا

  • شیخ ظہور الدین حاتم شیخ ظہور الدین حاتم
  • داغؔ دہلوی داغؔ دہلوی
  • شاہ نصیر شاہ نصیر
  • حسرتؔ موہانی حسرتؔ موہانی
  • آبرو شاہ مبارک آبرو شاہ مبارک
  • بیخود دہلوی بیخود دہلوی
  • راجیندر منچندا بانی راجیندر منچندا بانی
  • انیس الرحمان انیس الرحمان
  • بہادر شاہ ظفر بہادر شاہ ظفر
  • شیخ ابراہیم ذوقؔ شیخ ابراہیم ذوقؔ