noImage

محمد امان نثار

غزل 16

اشعار 9

خنجر نہ کمر میں ہے نہ تلوار رکھے ہے

آنکھوں ہی میں چاہے ہے جسے مار رکھے ہے

  • شیئر کیجیے

مجھ میں اور ان میں سبب کیا جو لڑائی ہوگی

یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی

  • شیئر کیجیے

تھا جنہیں حسن پرستی سے ہمیشہ انکار

وہ بھی اب طالب دیدار ہیں کن کے ان کے

کیا فسوں تو نے خدا جانے یہ ہم پر مارا

تجھ سے پھرتا نہیں دل ہم نے بہت سر مارا

  • شیئر کیجیے

مت منہ سے نثارؔ اپنے کو اے جان برا کہہ

ہے صاحب غیرت کہیں کچھ کھا کے نہ مر جائے