محمد ممتاز راشد کا تعارف
محمد ممتاز راشد 25 نومبر 1953ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد شفیع تھا۔ ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی اور بعد ازاں بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد سے کیا۔ فنی تعلیم کے طور پر ڈرافٹس مین شپ، کمپیوٹر کورسز اور عربی زبان کی تعلیم بھی حاصل کی۔ پیشہ ورانہ زندگی میں پاکستان اور قطر میں مختلف اداروں سے وابستہ رہے اور کئی برس قطر کی وزارتِ بجلی و پانی میں خدمات انجام دیں۔ شاعری کا آغاز 1976ء میں کیا اور 1977ء میں حلقۂ اربابِ ذوق میں شامل ہوئے۔ 1987ء سے قطر میں مقیم ہیں اور وہاں بھی ادبی سرگرمیوں میں فعال رہے ہیں۔ 1995ء میں ادبی ادارہ ’’خیالِ وطن‘‘ قائم کیا اور اس کے تحت ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ ان کی شاعری پاکستان اور بیرونِ ملک کے مختلف ادبی رسائل میں شائع ہوتی رہی ہے۔ ان کی تصانیف میں ’’صحرا کی ٹھنڈی شام‘‘، ’’کاؤں‘‘، ’’عقیدت نامہ‘‘، ’’تیری خوشبو دل مہکاتی ہے‘‘، ’’تحفہ‘‘، ’’ہم ہیں اپنے مزاج کے بندے‘‘، ’’لاہور کے نئے پرانے رنگ‘‘، ’’ندرتِ ناطق‘‘، ’’اک بات محبت کی‘‘، ’’تیرا جادو بول رہا ہے‘‘ اور ’’مدحتِ سرائی‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔