noImage

محمد یوسف پاپا

1930 | دلی, ہندوستان

ممتاز مزاحیہ شاعر

ممتاز مزاحیہ شاعر

232
Favorite

باعتبار

جب بھی والد کی جفا یاد آئی

اپنے دادا کی خطا یاد آئی

دوسری نے جو سنبھالی چپل

پہلی بیوی کی وفا یاد آئی

دشمنوں کی دشمنی میرے لیے آسان تھی

خرچ آیا دوستوں کی میزبانی میں بہت

جل گیا کون میرے ہنسنے پر

''یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے''

عشق اولاد کر رہی ہے مگر

میرا جینا حرام ہوتا ہے

یہاں جتنے ہیں اپنے باپ کے ہیں

تمہارے باپ کا کوئی نہیں ہے

زلف کے پیچ میں لٹکے ہوئے شاعر کا وجود

تھک چکا ہوگا اسے مل کے اتارو یارو

مار لاتا ہے جوتیاں دو چار

''جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے''

جب ہوا کالے کا گورے سے ملاپ

مل گئیں تاریکیاں تنویر سے

اپنے دم سے ہے زمانے میں گھٹالوں کا وجود

ہم جہاں ہوں گے گھٹالے ہی گھٹالے ہوں گے

کہا اٹھلا کے اس نے آئیے نا

یہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے

جھوٹ ہے دل نہ جاں سے اٹھتا ہے

یہ دھواں درمیاں سے اٹھتا ہے

دبانا شرط ہے بجتے ہیں سارے

کھلونا بے صدا کوئی نہیں ہے