Mohammad Yusuf Papa's Photo'

محمد یوسف پاپا

1930 | دلی, ہندوستان

ممتاز مزاحیہ شاعر

ممتاز مزاحیہ شاعر

445
Favorite

باعتبار

جب بھی والد کی جفا یاد آئی

اپنے دادا کی خطا یاد آئی

دوسری نے جو سنبھالی چپل

پہلی بیوی کی وفا یاد آئی

دشمنوں کی دشمنی میرے لیے آسان تھی

خرچ آیا دوستوں کی میزبانی میں بہت

یہاں جتنے ہیں اپنے باپ کے ہیں

تمہارے باپ کا کوئی نہیں ہے

عشق اولاد کر رہی ہے مگر

میرا جینا حرام ہوتا ہے

جل گیا کون میرے ہنسنے پر

''یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے''

اپنے دم سے ہے زمانے میں گھٹالوں کا وجود

ہم جہاں ہوں گے گھٹالے ہی گھٹالے ہوں گے

کہا اٹھلا کے اس نے آئیے نا

یہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے

زلف کے پیچ میں لٹکے ہوئے شاعر کا وجود

تھک چکا ہوگا اسے مل کے اتارو یارو

مار لاتا ہے جوتیاں دو چار

''جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے''

دبانا شرط ہے بجتے ہیں سارے

کھلونا بے صدا کوئی نہیں ہے

جھوٹ ہے دل نہ جاں سے اٹھتا ہے

یہ دھواں درمیاں سے اٹھتا ہے

جب ہوا کالے کا گورے سے ملاپ

مل گئیں تاریکیاں تنویر سے