Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mohammad Yusuf Papa's Photo'

محمد یوسف پاپا

1930 | دلی, انڈیا

ممتاز مزاحیہ شاعر

ممتاز مزاحیہ شاعر

محمد یوسف پاپا کے اشعار

1.8K
Favorite

باعتبار

جب بھی والد کی جفا یاد آئی

اپنے دادا کی خطا یاد آئی

دشمنوں کی دشمنی میرے لیے آسان تھی

خرچ آیا دوستوں کی میزبانی میں بہت

اپنے دم سے ہے زمانے میں گھٹالوں کا وجود

ہم جہاں ہوں گے گھٹالے ہی گھٹالے ہوں گے

دوسری نے جو سنبھالی چپل

پہلی بیوی کی وفا یاد آئی

جب ہوا کالے کا گورے سے ملاپ

مل گئیں تاریکیاں تنویر سے

یہاں جتنے ہیں اپنے باپ کے ہیں

تمہارے باپ کا کوئی نہیں ہے

جل گیا کون میرے ہنسنے پر

''یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے''

عشق اولاد کر رہی ہے مگر

میرا جینا حرام ہوتا ہے

کہا اٹھلا کے اس نے آئیے نا

یہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے

زلف کے پیچ میں لٹکے ہوئے شاعر کا وجود

تھک چکا ہوگا اسے مل کے اتارو یارو

جھوٹ ہے دل نہ جاں سے اٹھتا ہے

یہ دھواں درمیاں سے اٹھتا ہے

شانتی والوں سے جب کرسی چھنی

سب کے سب ہڑبونگ ہلا بن گئے

ہم کہ ہیں بے گھر کوئی وارنٹ لائے گا کہاں

جرم کی آسانیاں ہیں لا مکانی میں بہت

درد تو اپنی کمائی کا ہوا کرتا ہے

باپ کا مال ہے کھا کھا کے ڈکارو یارو

جو حسن جوانوں کے لیے وقف ہے اس کو

اک بار تو بوڑھوں کو دکھانے کے لیے آ

دن میں کبھی ہاتھوں کی صفائی سے گرہ کاٹ

شب میں کبھی سامان چرانے کے لیے آ

دل میں لڈو سے پھوٹتے ہیں مرے

جب بھی وہ ہم کلام ہوتا ہے

حسن جب بیوی بنا ہم اس کے بعد

نون لکڑی تیل غلہ بن گئے

جن کے باطن میں اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا

ان کے چہروں کے لیے نور کے ہالے ہوں گے

جوان گھر میں بڑھاپے کو کیوں کروں برداشت

ٹھکانا اپنا کہیں اور باپ ماں کر لیں

مار لاتا ہے جوتیاں دو چار

''جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے''

دل کے فٹ پاتھ کو ہموار بنانے کے لئے

اس سے دس بیس حسینوں کو گزارو یارو

دبانا شرط ہے بجتے ہیں سارے

کھلونا بے صدا کوئی نہیں ہے

وہ محبت کے لین دین میں بھی

آرزوئیں ادھار کرتا ہے

پہلے ہوتا تھا نظر کے تیر سے

کام اب ہوتا ہے وہ کف گیر سے

بھوک کا کچھ اسے بھی ہو احساس

وہ ستم گر ادیب ہو جائے

پڑھا رہے ہیں جو بچوں کو ان جوانوں سے

یہ التجا ہے کہ سب پان کی دکاں کر لیں

دل کے بجائے کیسے وہ پہلو میں آ گیا

اے شیخ جی پڑھا یہ سبق کس کتاب میں

Recitation

بولیے