Mohsin Kakorvi's Photo'

محسن کاکوروی

1825 - 1905

محسن کاکوروی

اشعار 4

دامن سے وہ پونچھتا ہے آنسو

رونے کا کچھ آج ہی مزا ہے

  • شیئر کیجیے

دیکھیے ہوگا شری کرشن کا درشن کیوں کر

سینۂ تنگ میں دل گوپیوں کا ہے بے کل

  • شیئر کیجیے

راکھیاں لے کے سلونوں کی برہمن نکلیں

تار بارش کا تو ٹوٹے کوئی ساعت کوئی پل

  • شیئر کیجیے

سنا ہے محتسب بھی تاک میں ہے دختر رز کی

الٰہی رکھ لے تو حرمت شراب ارغوانی کی

  • شیئر کیجیے

قصیدہ 1

 

نعت 1

 

کتاب 22

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے