مختار تلہری کے اشعار
اک تو ویسے ہی اداسی کی گھٹا چھائی ہے
اور چھیڑوگے تو آنسو بھی نکل سکتے ہیں
آپ مظلوم کے اشکوں سے نہ کھلواڑ کریں
یہ وہ دریا ہیں جو شہروں کو نگل سکتے ہیں
روشنی کے لئے مختارؔ جلائے تھے چراغ
کیا خبر تھی کہ مرے ہاتھ بھی جل سکتے ہیں
آج ایسی وادیوں سے ہو کے آیا ہوں جہاں
پیڑ تھے نزدیک لیکن دور تک سایہ نہ تھا
تھکا دیا ہے مجھے اس قدر مسافت نے
سفر کے نام سے اب روح کانپ جاتی ہے
شدت پیاس کے احساس کو بڑھنے دیجے
ایڑیوں سے کبھی چشمے بھی ابل سکتے ہیں
جس وقت ہوا کرتی ہے بے چین طبیعت
اس وقت بیابان سے لگتے ہیں چمن بھی
رہا نہ کام اس کی جستجو میں
ادھر میں خود سے بھی گم ہو گیا ہوں
ہمارے ذہن پہ اس کا اثر تو اب بھی ہے
بچھڑنے والا شریک سفر تو اب بھی ہے
مری ہنسی کو سر بزم سہہ لیا اس نے
پھر اس کے بعد اکیلے میں انتقام لیا
ہماری سمت سے بے رغبتی نہ کر ورنہ
ترے بغیر قرار آ گیا تو کیا ہوگا
مٹانا چاہوں تو ممکن کہاں مٹا بھی سکوں
وہ ایک بال جو آئینۂ خیال میں ہے
ارادے پھر بھی مستحکم بہت ہیں
مری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں
ان سے باتیں کرتے کرتے دل میں ٹیس چمک اٹھی تھی
لفظوں پر پھولوں کی ردا تھی معنی میں نشتر پنہاں تھے