Murtaza Barlas's Photo'

مرتضیٰ برلاس

1934

مرتضیٰ برلاس کی اشعار

دشمن جاں ہی سہی دوست سمجھتا ہوں اسے

بد دعا جس کی مجھے بن کے دعا لگتی ہے

نام اس کا آمریت ہو کہ ہو جمہوریت

منسلک فرعونیت مسند سے تب تھی اب بھی ہے

مانا کہ تیرا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں

ملنے کے بعد مجھ سے ذرا آئنہ بھی دیکھ

مجھے کی گئی ہے یہ پیشکش کہ سزا میں ہوں گی رعایتیں

جو قصور میں نے کیا نہیں وہ قبول کر لوں دباؤ میں

چہرے کی چاندنی پہ نہ اتنا بھی مان کر

وقت سحر تو رنگ کبھی چاند کا بھی دیکھ