Mushafi Ghulam Hamdani's Photo'

مصحفی غلام ہمدانی

1747 - 1824 | لکھنؤ, ہندوستان

اٹھارہویں صدی کے بڑے شاعروں میں شامل، میرتقی میر کے ہم عصر

اٹھارہویں صدی کے بڑے شاعروں میں شامل، میرتقی میر کے ہم عصر

تخلص : 'مصحفی'

اصلی نام : شیخ غلام ہمدانی

وفات : لکھنؤ, ہندوستان

LCCN :n85030564

مصحفیؔ ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم

تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

یہ ہیں غلام ہمدانی مصحفی جن کے شاعرانہ تعارف کے لئے یہ اشعار کافی ہیں۔۔۔۔"شب ہجر صحراے ظلمات نکلی*میں جب آنکھ کھولی بڑی رات نکلی"/" آستیں اس نے جو کہنی تک اٹھائی وقت صبح*آرہی سارے بدن کی بے حجابی ہاتھ میں"/ "شب اک جھلک دکھا کر وہ  مہ چلا گیا تھا*اب تک وہی سماں ہے غرفہ کی جالیوں پر" اور " مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہو گا کوئی زخم*تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا"۔
غلام ہمدانی نام ،مصحفی تخلص تھا۔اکثر تذکرہ نویسوں نے ان کی جائے پیدائش امروہہ لکھی ہے لیکن مہذب لکھنوی نے میر حسن کے حوالہ سے کہتے ہیں کہ وہ دہلی کے قریب اکبر پور میں پیدا ہوئے۔ان کا بچپن بہرحال امروہہ میں گزرا۔مصحفی کے آباو اجداد خوشحال تھے اور حکومت کے اعلیٰ منصبوں پر فائز تھے لیکن زوال سلطنت کے ساتھ ان کی خوشحالی بھی رخصت ہو گئی اور فلاکت نے آ گھیرا۔مصحفی کی ساری زندگی معاشی تنگی میں گزری اور روزگار کی فکر ان کو کئی جگہ بھٹکاتی رہی۔ وہ دہلی آئے جہاں انھوں نے تلاش معاش کے ساتھ ساتھ اہل علم کی صحبت سے فائدہ اٹھایا۔تلاش معاش میں وہ آنولہ گیے پھر کچھ عرصہ ٹانڈے اور ایک سال لکھنو میں رہے۔وہیں ان کی ملاقات سودا ؔسے ہ ہوئی جو فرخ آباد سے لکھنو منتقل ہو چکے تھے۔سودا ؔسے وہ بہت متاثر ہوئے ۔اس کے بعد وہ دہلی واپس آآ گئے۔مصحفی میں علمی قابلیت زیادہ نہیں تھی لیکن  طبیعت موزوں پائی تھی۔ اور  شاعری کے ذریعہ اپنا کوئی مقام بنانا چاہتے تھے۔وہ باقاعدگی سے مشاعروں میں شرکت کرتے اور اپنے گھر پر بھی مشاعرے منعقد کرتے ۔دہلی میں  انھوں نے دو دیوان مرتب کر لئے تھے جن میں سے اک چوری ہو گیا۔۔۔ "اے مصحفی  شاعر نہیں پورب میں ہوا میں*دلی میں بھی چوری مرا دیوان گیا ھے"
بارہ سال دہلی میں رہ کر جب وہ دوبارہ لکھنو پہنچے تو شہر کا نقشہ ہی کچھ اور تھا

آصف الدولہ کا دور دورہ تھا جن کی سخاوت کے ڈنکے بج رہے تھے۔ہر فن کے با کمال لکھنو میں جمع تھے۔سوداؔ مر چکے تھے،میر تقی میرؔ لکھنو آ چکے تھے۔میر حسن مقیم لکھنو تھے میرؔ سوز ؔاور جراتؔ کے سکے جمے ہوئے تھے۔۔ان لوگوں کے ہوتے مصحفیؔ کو دربار سے کوئی فیض نہیں پہنچا وہ  دہلی کے شہزادے سلیمان شکوہ کی سرکار سے  وابستہ ہو گئے ۔سلیمان شکوہ نے لکھنو میں ہی سکونت اختیار کر لی تھی۔ شاعری میں انہوں نے مصحفیؔ کو استاد بنا لیا اور 25 روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا۔ لیکن اسی زمانہ میں سید انشاء ء لکھنو آ گئے اور سلیماں شکوہ  کو شیشہ میں اتار لیا۔اور وہ انشاء سے ہی اصلاح لینے لگے۔

انشاءؔ لکھنو میں مصحفیؔ کے مد مقابل اور حریف تھے۔ان کی نوک جھونک مشاعروں سے نکل کر سڑکوں تک آ گئی تھی مصحفیؔ نے لکھنو میں شاگردوں کی بڑی تعداد جمع کر لی تھی۔دوسری طرف انشاءؔکی طبیعت برجستگی،حاضر جوابی،شوخی اور ظرافت کا مجسمہ تھی۔مصحفیؔ ان کی چٹکیوں کں کا،جو مخالف کو رلا دیں،مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔سالہا سال دونوں میں نوک جھونک جاری رہی اور جب بات زیادہ بڑھی تو سلیماں شکوہ کھل کر انشاءؔ کے طرفدار بن گئے۔جب مصحفیؔ کے شاگردوں نے اک سوانگ (تضحیکی جلوس) انشاءؔ کے خلاف نکالنے کا منصوبہ بنایا  تو انھوں نے کوتوال سے کہہ کر اسے رکوا دیا اور ناراض ہو کر  مصحفیؔ کا وظیفہ بھی گھٹا کر پانچ روپے ماہانہ کر دیا۔ یہ مصحفیؔ کے لئے بڑی ذلت کی بات  تھی جس کا شکوہ انہوں نے اپنے ان اشعار میں کیا ہے۔۔"۔اے واے کہ پچیس سے اب پانچ ہوئے ہیں*ہم بھی تھے کنھوں وقتوں میں پچیس کے لائق۔۔۔۔استاد کا کرتے ہیں امیر اب کے مقرر*ہوتا ہے جو در ماہہ کہ سائیس کے لائق" ۔یہاں تک کہ دل برداشتہ ہو کر  مصحفیؔ نے لکھنو چھوڑ دینے کا ارادہ کیا۔۔۔اور کہا۔۔۔"جاتا ہوں ترے در سے کہ توقیر نہیں یاں*کچھ  اس کے سو اب کوئی تدبیر نہیں یاں۔۔۔اے مصحفی بے لطف ہے اس شہر میں رہنا *سچ ہے کہ کچھ انسان کی توقیر نہیں یاں" لیکن لکھنو سے نکلنا تقدیر میں نہیں تھا وہیں انتقال کیا۔مصحفیؔ نے اپنے پیچھے آٹھ دیوان اردو کے،ایک دیوان فارسی کا ،ایک تذکرہ فارسی شاعروں کا اور دو تذکرے اردو شاعروں کے چھوڑے۔مصحفیؔ کا بہت سا کلام ہم تک نہیں پہنچا کیونکہ ایک وقت ان پر ایسا بھی آیا کہ وہ مالی تنگی سے پریشان ہو کر شعر فروخت کرنے لگے تھے۔ہر مشاعرے کے لئے بہت سی غزلیں کہتے اور لوگ آٹھ آنے ایک روپیہ یا اس سے زیادہ دے کر اچھے  اچھے شعر چھانٹ لے جاتے،جو بچتا خود اپنے لئے رکھ لیتے۔محمد حسین آزاد کے مطابق جب ایک مشاعرہہ میں بالکل داد نہ ملی تو انہوں نے  تنگ آ کر غزل زمین پر دے ماری اور کہا کہ "واے فلاکت سیاہ جسکی بدولت کلام کی یہ نوبت پہنچی کہ اب کوئی سنتا نہیں"شہر میں اس بات کا چرچا ہوا تو کھلا کہ ان کی غزلیں بکتی ہیں۔شاگردوں کی تعداد اتنی ز زیادہ تھی کہ ان کو استادوں کا استاد کہا جائے تو غلط نہیں۔آتشؔ،اسیرؔ،میرؔ خلیقؔ وغیرہ سب ان ہی کے شاگرد تھے

مصحفی ؔمیرؔ اور سوداؔ کے بعد خود کو سب سے بڑا شاعر سمجھتے تھے اور اپنی استادی کا سکہ جمانا ان کی عادتدت تھی۔خواجہ حیدر علی آتش ان کے شاگرد تھے۔ایک دن آتش نے اک مشاعرہ میں غزل پڑھی جس کی طرح "دہن بگڑا"،کفن بگڑا" تھی۔اور استاد کے سامنے جب یہ شعر پڑھا "لگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب*زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا"،تو یہ بھی کہہ بیٹھےکہ ا یسا شعر کوئی دوسرا نکالے تو کلیجہ منہ کو آ جائے۔مصحفیؔ نے ہنس کر کہا "میاں سچ کہتے ہو" اور اس کے بعد اک نو مشق شاگرد کی غزل میں یہ شعر بڑھا دیا "نہ ہو محسوس جو شے کس طرح نقشے میں ٹھیک اترے*شبیہ یار کھنچوائی،کمر بگڑی دہن بگڑا"جب لڑکے نے مشاعرہ میں شعر پڑھا تو  آتشؔ نے مصحفیؔ کے قریب آ کر غزل پھینک دی اور کہا "آپ کلیجہ پر چھریاں مارتے ہیں!  اس لڑکے کی کیا حیثیت کہ ایسا شعر کہے"  اس واقعہ سے مصحفیؔ کی قادرالکلامی ظاہر ہوتی ہے۔

مصحفیؔ کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ان کا اپنا کوئی مخصوص رنگ نہیں۔کبھی وہ میرؔ کی طرح،کبھی سوداؔ کی طرح اور کبھی جراتؔ کی طرح شعر کہنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنے شعروں میں وہ ان سب سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔بات یہ ہے کہ اپنا رنگ تلاش کرنے کے لئے جس فراغت اور یکسوئی کی ضرورت ہے وہ ان کو کبھی نصیب ہی نہیں ہوئی۔بسیار گوئی نے ان کے قیمتی نگینوں کو ڈھک لیا پھر بھی جن لوگوں نے ان کے کلام کو توجہ سے پڑھا ہے وہ ان سے متاثر ہوے بغیر  نہیں رہے۔

حسرت موہانی نے کہا "میر تقی کے رنگ میں مصحفی میر حسن کے ہم پلّہ ہیں،سودا ؔکے انداز میں انشاء کے ہم ہم پلّہ اور جعفر علی حسرت کی طرز میں جرات کے ہمنوا ہیں لیکن بہ حیثیت مجموعی ان سب ہمعصروں سے بہ اعتبار کمال سخندانی و مشّاقی برتر ہیں۔۔۔۔ ۔میرؔ و میرزاؔ کے ب بعد کوئی استاد ان کے مقابلہ میں نہیں جچتا"
گل رعنا کے مولف حکیم عبد الحق کے مطابق"ان کی ہمہ گیر شخصیت نے کسی خاص رنگ پر قناعت نہیں کی۔ان کے کلام میں کہیں میرؔ کا درد ہے ،کہیں سوداؔ کا انداز،کہیں سوز ؔکی سادگی اور جہاں کہیں ان کی کہنہ  مشقی اور استادی اپنے پیشرووں کی خوبیوں کو یکجا کر دیتی ہے وہاں وہ اردو شاعری کا بہترین نمونہ قرار دئے جا سکتے ہیں"

نثار احمد فاروقی بہرحال مصحفیؔ کے بارے میں اس عام خیال سے کہ ان کا اپنا کوئی رنگ ،کوئی انفرادی اسلوب نہیں، اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں "اگر ہم اس مرکزی اور مستقل  خصوصیت کو بیان کرنا چاہیں جو میرؔ و سوداؔ  کے مختلف اندازوں کو اڑاتے ہوئے بھی،مصحفیؔ کے وجدان و کلام میں جاری وساری ہے،تو اسے ہم اک رچا ہوا اعتدال کہہ سکتے ہیں،اک تحت غنائی کیفیت! اگر میر کے یہاں آفتاب نصف النہار کی پگھلا دینے والی آنچ ہے تو سوداؔ کے یہاں اس کی عالمگیر روشنی ہے۔لیکن آفتاب ڈھل جانے کے بعد سہ پہر کو گرمی اور روشنی کے اک نئے امتزاج سے جو معتدل کیفیت پیدا ہوتی ہے وہ مصحفیؔ کے کلام کی خصوصیت ہے۔مصحفیؔ کے یہاں شبنم کی نرمی اور اور شعلۂ گل کی گرمی کا ایسا امتزاج ہے جو اس کی خاص اپنی چیز ہے۔اس کے نغموں کی شبنم سے دھلی ہوئی پنکھڑیاں ان گلہائے رنگارنگ کا نظارہ کراتی ہیں جن کی رگیں دُکھی ہوئی ہیں اور جن کی چٹیل مسکراہٹ سے بھینی بھینی بوئے درد آتی ھے۔"
مجموعی طور پر مصحفیؔ  ایسے شاعر ہیں جن کو زندگی نے نہ کھل کر ہنسنے کا موقع دیا ننہ کھل کر رونے کا ۔
پھر بھی وہ اپنے پیچھے شاعری کا وہ سرمایہ چھوڑ گئے،جو  ان کی ابدی زندگی کا ضامن ہے۔