Mushafi Ghulam Hamdani's Photo'

مصحفی غلام ہمدانی

1747 - 1824 | لکھنؤ, ہندوستان

اٹھارہویں صدی کے بڑے شاعروں میں شامل، میرتقی میر کے ہم عصر

اٹھارہویں صدی کے بڑے شاعروں میں شامل، میرتقی میر کے ہم عصر

7.1K
Favorite

باعتبار

مصحفیؔ ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم

تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

لوگ کہتے ہیں محبت میں اثر ہوتا ہے

کون سے شہر میں ہوتا ہے کدھر ہوتا ہے

people say

where does this happen someone tell me where

people say

where does this happen someone tell me where

بال اپنے بڑھاتے ہیں کس واسطے دیوانے

کیا شہر محبت میں حجام نہیں ہوتا

حیراں ہوں اس قدر کہ شب وصل بھی مجھے

تو سامنے ہے اور ترا انتظار ہے

اب مری بات جو مانے تو نہ لے عشق کا نام

تو نے دکھ اے دل ناکام بہت سا پایا

عید اب کے بھی گئی یوں ہی کسی نے نہ کہا

کہ ترے یار کو ہم تجھ سے ملا دیتے ہیں

وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو

ہے عید کا دن اب تو گلے ہم کو لگا لو

آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوں

یا عشق کی پکڑ کر گردن مروڑ ڈالوں

اے مصحفیؔ تو ان سے محبت نہ کیجیو

ظالم غضب ہی ہوتی ہیں یہ دلی والیاں

دیکھ کر ہم کو نہ پردے میں تو چھپ جایا کر

ہم تو اپنے ہیں میاں غیر سے شرمایا کر

آستیں اس نے جو کہنی تک چڑھائی وقت صبح

آ رہی سارے بدن کی بے حجابی ہاتھ میں

جو ملا اس نے بے وفائی کی

کچھ عجب رنگ ہے زمانے کا

آساں نہیں دریائے محبت سے گزرنا

یاں نوح کی کشتی کو بھی طوفان کا ڈر ہے

عید تو آ کے مرے جی کو جلاوے افسوس

جس کے آنے کی خوشی ہو وہ نہ آوے افسوس

اک درد محبت ہے کہ جاتا نہیں ورنہ

جس درد کی ڈھونڈے کوئی دنیا میں دوا ہے

حسرت پہ اس مسافر بے کس کی روئیے

جو تھک گیا ہو بیٹھ کے منزل کے سامنے

ہے عید کا دن آج تو لگ جاؤ گلے سے

جاتے ہو کہاں جان مری آ کے مقابل

چھیڑ مت ہر دم نہ آئینہ دکھا

اپنی صورت سے خفا بیٹھے ہیں ہم

ابھی آغاز محبت ہے کچھ اس کا انجام

تجھ کو معلوم ہے اے دیدۂ نم کیا ہوگا

اللہ رے تیرے سلسلۂ زلف کی کشش

جاتا ہے جی ادھر ہی کھنچا کائنات کا

خدا رکھے زباں ہم نے سنی ہے میرؔ و مرزاؔ کی

کہیں کس منہ سے ہم اے مصحفیؔ اردو ہماری ہے

دلی میں اپنا تھا جو کچھ اسباب رہ گیا

اک دل کو لے کے آئے ہیں اس سرزمیں سے ہم

موسم ہولی ہے دن آئے ہیں رنگ اور راگ کے

ہم سے تم کچھ مانگنے آؤ بہانے پھاگ کے

اک دن تو لپٹ جائے تصور ہی سے تیرے

یہ بھی دل نامرد کو جرأت نہیں ملتی

اے کاش کوئی شمع کے لے جا کے مجھے پاس

یہ بات کہے اس سے کہ پروانہ ہے یہ بھی

آغوش کی حسرت کو بس دل ہی میں ماروں گا

اب ہاتھ تری خاطر پھیلاؤں تو کچھ کہنا

گو کہ تو میرؔ سے ہوا بہتر

مصحفیؔ پھر بھی میرؔ میرؔ ہی ہے

ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا

کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا

چاہوں گا میں تم کو جو مجھے چاہو گے تم بھی

ہوتی ہے محبت تو محبت سے زیادہ

کہئے جو جھوٹ تو ہم ہوتے ہیں کہہ کے رسوا

سچ کہئے تو زمانہ یارو نہیں ہے سچ کا

آسماں کو نشانہ کرتے ہیں

تیر رکھتے ہیں جب کمان میں ہم

لاکھ ہم شعر کہیں لاکھ عبارت لکھیں

بات وہ ہے جو ترے دل میں جگہ پاتی ہے

ان کو بھی ترے عشق نے بے پردہ پھرایا

جو پردہ نشیں عورتیں رسوا نہ ہوئیں تھیں

سادگی دیکھ کہ بوسے کی طمع رکھتا ہوں

جن لبوں سے کہ میسر نہیں دشنام مجھے

اب خدا مغفرت کرے اس کی

میرؔ مرحوم تھا عجب کوئی

آدھی رات آئے ترے پاس یہ کس کا ہے جگر

چونک مت اتنا کہ اے ہوش ربا ہم ہی ہیں

اس واسطے فرقت میں جیتا مجھے رکھا ہے

یعنی میں تری صورت جب یاد کروں روؤں

اس ہوا میں کر رہے ہیں ہم ترا ہی انتظار

آ کہیں جلدی سے ساقی شیشہ و ساغر سمیت

دلی ہوئی ہے ویراں سونے کھنڈر پڑے ہیں

ویران ہیں محلے سنسان گھر پڑے ہیں

آدمی سے آدمی کی جب نہ حاجت ہو روا

کیوں خدا ہی کی کرے اتنی نہ پھر یاد آدمی

کیا کیا بدن صاف نظر آتے ہیں ہم کو

کیا کیا شکم و ناف نظر آتے ہیں ہم کو

آپ ہر دم جو یہ کہتے ہیں کہ تو کیوں ہے کھڑا

دل تمہیں دے کے میں کیا بیٹھا رہوں ایسے جی

اس رنگ سے اپنے گھر نہ جانا

دامن ترا خوں میں تر بہت ہے

دلی پہ رونا آتا ہے کرتا ہوں جب نگاہ

میں اس کہن خرابے کی تعمیر کی طرف

اے عشق جہاں ہے یار میرا

مجھ کو بھی اسی جگہ تو لے چل

آتا نہیں سمجھ میں کہ کہتے ہیں کس کو عشق

اک پرزے پر یہ حرف جدا لکھ رکھیں گے ہم

کوچۂ زلف میں پھرتا ہوں بھٹکتا کب کا

شب تاریک ہے اور ملتی نہیں راہ کہیں

ایک نالے پہ ہے معاش اپنی

ہم غریبوں کی ہے یہی معراج

معلوم نہیں مجھ کو کہ جاوے گا کدھر کو

یوں سینہ ترا چاک گریباں سے نکل کر

اپنی غرض کو آئے تھے وہ رات مصحفیؔ

لے کر مری بغل سے مرا دل رواں ہوئے