Nasir Shahzad's Photo'

ناصر شہزاد

1937 - 2007 | اوکاڑہ, پاکستان

41
Favorite

باعتبار

اخروٹ کھائیں تاپیں انگیٹھی پہ آگ آ

رستے تمام گاؤں کے کہرے سے اٹ گئے

پھر یوں ہوا کہ مجھ سے وہ یوں ہی بچھڑ گیا

پھر یوں ہوا کہ زیست کے دن یوں ہی کٹ گئے

ایک کاٹا رام نے سیتا کے ساتھ

دوسرا بن باس میرے نام پر

جب کہ تجھ بن نہیں موجود کوئی

اپنے ہونے کا یقیں کیسے کروں

نیا باندھو ندی کنارے سکھی

چاند بیراگ رات تیاگ لگے

کھلے دھان کھلکھلا کر پڑے ندیوں میں ناکے

گھنی خوشبوؤں سے مہکے مرے دیس کے علاقے

ہم وہ لوگ ہیں جو چاہت میں

جی نہ سکیں تو مر رہتے ہیں

دینا مرا سندیش سکھی پھر

پہلے چھونا اس کے پاؤں

پاٹی ہیں ہم نے بپھری چنابیں ترے لئے

ہم لے گئے ہیں تجھ کو سوئمبر سے جیت کے

کچھ گریزاں بھی رہے ہم خود سے

کچھ کہانی بھی المناک ہوئی

تجھے پچھاڑ نہ دیں روشنی میں تیرے رفیق

دیا بجھے نہ بجھے تو بھی پھونک مار تو لے

پھر مجھے مل ندی کنارے کہیں

پھر بڑھا مان آ کے راہوں کا

دیکھا قد گناہ پہ جب اس کو ملتفت

بڑھ کر حد نگاہ لگی اس کو ڈھانپنے

شاہ بلوط کے اوپر دیکھ

چاند دھرا ہے تھالی پر

عمروں کے بجھتے معمورے میں

میں نے ہر لمحہ تجھ کو سوچا

تجھ سے بچھڑے گاؤں چھوٹا شہر میں آ کر بسے

تج دیئے سب سنگی ساتھی تیاگ ڈالا دیس بھی

تجھ سے ملی نگاہ تو دیکھا کہ درمیاں

چاندی کے آبشار تھے سونے کی راہ تھی

یاد آئے تو مجھ کو بہت جب شب کٹے جب پو پھٹے

جب وادیوں میں دور تک کہرا دکھے بے انت سا

چوکھٹا دل کا یہاں ہے ہو بہ ہو تجھ سا کوئی

ہونٹ بھی آنکھیں بھی چھب ڈھب بھی تجھی سا فیس بھی

پستکوں میں پرانوں میں ارضوں میں آسمانوں میں

ایک نام کی بھگتی ایک قول کا کلمہ

ہجرتوں میں حضوریوں کے جتن

پاؤں کو دوریوں نے گھیرا ہے

مجمع نہیں مجلہ ہے اشعار کی جگہ

بھر اور کوئی سوانگ جو ہونا ہی ہوٹ ہے

قائم ہے آبرو تو غنیمت یہی سمجھ

میلے سے ہیں جو کپڑے پھٹا سا جو بوٹ ہے

پاؤں کے نیچے سرکتی ہوئی ریت

سر میں مسند کی ہوا باقی ہے

سانس میں ساجنا ہوا کی طرح

سانس کا سلسلہ ہوا سے ہے

سنگت دلوں کی جیونوں مرنوں کا ارتباط

پھر ڈر پڑا تھا کیا تجھے گرد و نواح کا

نین نچنت ہیں دیکھ کے تجھ کو

دل ہے ازل سے ہکا بکا

دریا پہ ٹیکری سے پرے خانقاہ تھی

تب تیرے میرے پیار کی دنیا گواہ تھی

اک خطہ خوں میں کہیں دریا کے کنارے

دیوار زمانہ سے گرا دھیان پھسل کر