Nasir Shahzad's Photo'

ناصر شہزاد

1937 - 2007 | اوکاڑہ, پاکستان

اخروٹ کھائیں تاپیں انگیٹھی پہ آگ آ

رستے تمام گاؤں کے کہرے سے اٹ گئے

ایک کاٹا رام نے سیتا کے ساتھ

دوسرا بن باس میرے نام پر

پھر یوں ہوا کہ مجھ سے وہ یوں ہی بچھڑ گیا

پھر یوں ہوا کہ زیست کے دن یوں ہی کٹ گئے

جب کہ تجھ بن نہیں موجود کوئی

اپنے ہونے کا یقیں کیسے کروں

ہم وہ لوگ ہیں جو چاہت میں

جی نہ سکیں تو مر رہتے ہیں

دینا مرا سندیش سکھی پھر

پہلے چھونا اس کے پاؤں

یاد آئے تو مجھ کو بہت جب شب کٹے جب پو پھٹے

جب وادیوں میں دور تک کہرا دکھے بے انت سا

کھلے دھان کھلکھلا کر پڑے ندیوں میں ناکے

گھنی خوشبوؤں سے مہکے مرے دیس کے علاقے

تجھے پچھاڑ نہ دیں روشنی میں تیرے رفیق

دیا بجھے نہ بجھے تو بھی پھونک مار تو لے

شاہ بلوط کے اوپر دیکھ

چاند دھرا ہے تھالی پر

پھر مجھے مل ندی کنارے کہیں

پھر بڑھا مان آ کے راہوں کا

عمروں کے بجھتے معمورے میں

میں نے ہر لمحہ تجھ کو سوچا

سنگت دلوں کی جیونوں مرنوں کا ارتباط

پھر ڈر پڑا تھا کیا تجھے گرد و نواح کا

نین نچنت ہیں دیکھ کے تجھ کو

دل ہے ازل سے ہکا بکا

دیکھا قد گناہ پہ جب اس کو ملتفت

بڑھ کر حد نگاہ لگی اس کو ڈھانپنے

پاؤں کے نیچے سرکتی ہوئی ریت

سر میں مسند کی ہوا باقی ہے

سانس میں ساجنا ہوا کی طرح

سانس کا سلسلہ ہوا سے ہے

اک خطہ خوں میں کہیں دریا کے کنارے

دیوار زمانہ سے گرا دھیان پھسل کر

چوکھٹا دل کا یہاں ہے ہو بہ ہو تجھ سا کوئی

ہونٹ بھی آنکھیں بھی چھب ڈھب بھی تجھی سا فیس بھی

پاٹی ہیں ہم نے بپھری چنابیں ترے لئے

ہم لے گئے ہیں تجھ کو سوئمبر سے جیت کے

ہجرتوں میں حضوریوں کے جتن

پاؤں کو دوریوں نے گھیرا ہے

پستکوں میں پرانوں میں ارضوں میں آسمانوں میں

ایک نام کی بھگتی ایک قول کا کلمہ

تجھ سے ملی نگاہ تو دیکھا کہ درمیاں

چاندی کے آبشار تھے سونے کی راہ تھی

تجھ سے بچھڑے گاؤں چھوٹا شہر میں آ کر بسے

تج دیئے سب سنگی ساتھی تیاگ ڈالا دیس بھی

دریا پہ ٹیکری سے پرے خانقاہ تھی

تب تیرے میرے پیار کی دنیا گواہ تھی

مجمع نہیں مجلہ ہے اشعار کی جگہ

بھر اور کوئی سوانگ جو ہونا ہی ہوٹ ہے

قائم ہے آبرو تو غنیمت یہی سمجھ

میلے سے ہیں جو کپڑے پھٹا سا جو بوٹ ہے

کچھ گریزاں بھی رہے ہم خود سے

کچھ کہانی بھی المناک ہوئی

Added to your favorites

Removed from your favorites