Noshi Gilani's Photo'

نوشی گیلانی

1964 | آسٹریلیا

غزل 23

اشعار 13

تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتی

خود کو اتنی بھی اذیت نہیں دی جا سکتی

کچھ نہیں چاہئے تجھ سے اے مری عمر رواں

مرا بچپن مرے جگنو مری گڑیا لا دے

  • شیئر کیجیے

اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئے

اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

کسی حرف میں کسی باب میں نہیں آئے گا

ترا ذکر میری کتاب میں نہیں آئے گا

یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیں

مگر وہ شخص تو رستہ بدلتا جاتا ہے

کتاب 2

سائبان

 

1984

اداس ہونے کے دن نہیں ہیں

 

 

 

تصویری شاعری 6

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے کہ جس طرح کوئی لہجہ بدلتا جاتا ہے یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیں مگر وہ شخص تو رستہ بدلتا جاتا ہے رتیں وصال کی اب خواب ہونے والی ہیں کہ اس کی بات کا لہجہ بدلتا جاتا ہے رہا جو دھوپ میں سر پر مرے وہی آنچل ہوا چلی ہے تو کتنا بدلتا جاتا ہے وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر سمجھے تجھے خبر ہے زمانہ بدلتا جاتا ہے

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے کہ جس طرح کوئی لہجہ بدلتا جاتا ہے یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیں مگر وہ شخص تو رستہ بدلتا جاتا ہے رتیں وصال کی اب خواب ہونے والی ہیں کہ اس کی بات کا لہجہ بدلتا جاتا ہے رہا جو دھوپ میں سر پر مرے وہی آنچل ہوا چلی ہے تو کتنا بدلتا جاتا ہے وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر سمجھے تجھے خبر ہے زمانہ بدلتا جاتا ہے

 

ویڈیو 5

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
Nazm - Ikhtiyaar

نوشی گیلانی

Noshi Gilani at Silakot in 2008

نوشی گیلانی

عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں

نوشی گیلانی

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا

نوشی گیلانی

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے

نوشی گیلانی

آڈیو 7

اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا

جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

مزید دیکھیے