noImage

پیر شیر محمد عاجز

پیر شیر محمد عاجز

غزل 8

اشعار 9

نہ تو میں حور کا مفتوں نہ پری کا عاشق

خاک کے پتلے کا ہے خاک کا پتلا عاشق

  • شیئر کیجیے

جب اس نے مرا خط نہ چھوا ہاتھ سے اپنے

قاصد نے بھی چپکا دیا دیوار سے کاغذ

  • شیئر کیجیے

کسی کی زلف کے سودے میں رات کی ہے بسر

کسی کے رخ کے تصور میں دن تمام کیا

  • شیئر کیجیے

شب وصل آج وہ تاکید کرتے ہیں محبت سے

ابھی سو رہنے دو کچھ رات گزرے تو جگا لینا

  • شیئر کیجیے

سنا ہے عرش الٰہی اسی کو کہتے ہیں

طواف کعبۂ دل ہم نے صبح و شام کیا

  • شیئر کیجیے

کتاب 4

دیوان کرشمۂ عشق

تنویر الخیال

1922

کرشمۂ عشق

تنویر الخیال

1922

ترانۂ حبیب

 

1922

ترانۂ حبیب

 

1914