Pirzada Qasim's Photo'

پیرزادہ قاسم

1943 | کراچی, پاکستان

سماجی اور سیاسی طنز کی حامل شاعری کے لئے معروف پاکستانی شاعر

سماجی اور سیاسی طنز کی حامل شاعری کے لئے معروف پاکستانی شاعر

غزل

اب حرف_تمنا کو سماعت نہ ملے_گی

پیرزادہ قاسم

اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے

پیرزادہ قاسم

چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

پیرزادہ قاسم

دل اگر کچھ مانگ لینے کی اجازت مانگتا

پیرزادہ قاسم

زندگی نے جھیلے ہیں سب عذاب دنیا کے

پیرزادہ قاسم

غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں

پیرزادہ قاسم

گھر کی جب یاد صدا دے تو پلٹ کر آ جائیں

پیرزادہ قاسم

کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیا

پیرزادہ قاسم

خرمن_جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہم

پیرزادہ قاسم

خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا

پیرزادہ قاسم

زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو

پیرزادہ قاسم

عیاں ہم پر نہ ہونے کی خوشی ہونے لگی ہے

پیرزادہ قاسم

میں کب سے اپنی تلاش میں ہوں ملا نہیں ہوں

پیرزادہ قاسم

اشعار

اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے

پیرزادہ قاسم

اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے

پیرزادہ قاسم

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI