Rafi Raza's Photo'

رفیع رضا

1962 | ٹورنٹو, کناڈا

رفیع رضا

غزل 12

اشعار 9

ایک مجذوب اداسی میرے اندر گم ہے

اس سمندر میں کوئی اور سمندر گم ہے

کس نے روکا ہے سر راہ محبت تم کو

تمہیں نفرت ہے تو نفرت سے تم آؤ جاؤ

دھوپ چھاؤں کا کوئی کھیل ہے بینائی بھی

آنکھ کو ڈھونڈ کے لایا ہوں تو منظر گم ہے

پڑا ہوا ہوں میں سجدے میں کہہ نہیں پاتا

وہ بات جس سے کہ ہلکا ہو کچھ زبان کا بوجھ

میں سامنے سے اٹھا اور لو لرزنے لگی

چراغ جیسے کوئی بات کرنے والا تھا

"ٹورنٹو" کے مزید شعرا

 

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI