noImage

رضا عظیم آبادی

429
Favorite

باعتبار

دیکھی تھی ایک رات تری زلف خواب میں

پھر جب تلک جیا میں پریشان ہی رہا

سو عید اگر زمانے میں لائے فلک ولیک

گھر سے ہمارے ماہ محرم نہ جائے گا

کعبے میں شیخ مجھ کو سمجھے ذلیل لیکن

سو شکر میکدے میں ہے اعتبار اپنا

رفو پھر کیجیو پیراہن یوسف کو اے خیاط

سیا جائے تو سی پہلے تو چاک دل زلیخا کا

یا رب تو اس کے دل سے سدا رکھیو غم کو دور

جس نے کسی کے دل کو کبھی شادماں کیا

سب کچھ پڑھایا ہم کو مدرس نے عشق کے

ملتا ہے جس سے یار نہ ایسی پڑھائی بات

زخم کے لگتے ہی کیا کھل گئے چھاتی کے کواڑ

آگے یہ خانۂ دلچسپ ہوا دار نہ تھا

گر گریباں سیا تو کیا ناصح

سینے کا چاک بن سیا ہی رہا

عمارت دیر و مسجد کی بنی ہے اینٹ و پتھر سے

دل ویرانہ کی کس چیز سے تعمیر ہوتی ہے

کیا کہیں اپنی سیہ بختی ہی کا اندھیر ہے

ورنہ سب کی ہجر کی رات ایسی کالی بھی نہیں

خواہ کافر مجھے کہہ خواہ مسلمان اے شیخ

بت کے ہاتھوں میں بکا یا ہوں خدا کی سوگند

ایسا کسی سے جنوں دست و گریباں نہ ہو

چاک گریباں کا بھی چاک گریباں کیا

کس طرح رضاؔ تو نہ ہو دھوانے زمانہ

جب دل سا تری بیٹھا ہو بدنام بغل میں

اک دم کے واسطے نہ کیا کیا کیا اے رضاؔ

دیکھا چھپایا توڑا بنایا کہا سنا

نو مشق عشق ہیں ہم آہیں کریں عجب کیا

گیلی جلے گی لکڑی کیوں کر دھواں نہ ہوگا

کعبہ و دیر جدھر دیکھا ادھر کثرت ہے

آہ کیا جانے کدھر گوشۂ تنہائی ہے

چلا ہے کعبے کو بت خانے سے رضاؔ یارو

کسی نے ایسا خدائی خراب دیکھا ہے

سنتے تو تھے رضاؔ ہیں سب ہیں بڑے مسلماں

پر کفر میں زیادہ نکلے وہ برہمن سے

خوشا ہو کر بتاں کب عاشقوں کو یاد کرتے ہیں

رضاؔ حیراں ہوں میں کس بات پر ہے اتنا بھولا تو

سو غمزے کے رکھتا ہے نگہبان پس و پیش

آتا ہے اکیلا پر اکیلا نہیں آتا

جس طرح ہم رہے دنیا میں ہیں اس طرح رضاؔ

شیخ بت خانے میں کعبے میں برہمن نہ رہا

نہ کعبہ ہے یہاں میرے نہ ہے بت خانہ پہلو میں

لیا کس گھر بسے نے آہ آ کر خانہ پہلو میں

الٰہی چشم بد اس سے تو دور ہی رکھیو

کہ مست سخت ہوں میں اور ایاغ نازک تر

ہم کو ملی ہے عشق سے اک آہ سوز ناک

وہ بھی اسی کی گرمئ بازار کے لئے

اس چشم و دل نے کہنا نہ مانا تمام عمر

ہم پر خرابی لائی یہ گھر ہی کی پھوٹ پھاٹ