Raza Hamdani's Photo'

رضا ہمدانی

1910 - 1999 | پیشاور, پاکستان

بھنور سے لڑو تند لہروں سے الجھو

کہاں تک چلو گے کنارے کنارے

عجب چیز ہے یہ محبت کی بازی

جو ہارے وہ جیتے جو جیتے وہ ہارے

اک بار جو ٹوٹے تو کبھی جڑ نہیں سکتا

آئینہ نہیں دل مگر آئینہ نما ہے

طعنہ دیتے ہو مجھے جینے کا

زندگی میری خطا ہو جیسے

پاس آداب وفا تھا کہ شکستہ پائی

بے خودی میں بھی نہ ہم حد سے گزرنے پائے

گویا تھے تو کوئی بھی نہیں تھا

اب چپ ہیں تو شہر دیکھتا ہے

بکھر گیا ہوں فضاؤں میں بوئے گل کی طرح

مرے وجود میں وسعت مری سما نہ سکی

قربت تری کس کو راس آئی

آئینے میں عکس کانپتا ہے