Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Sabir Aafaque's Photo'

صابر آفاق

1982 | جلگاؤں, انڈیا

صابر آفاق کے اشعار

496
Favorite

باعتبار

موت آ جائے وبا میں یہ الگ بات مگر

ہم ترے ہجر میں ناغہ تو نہیں کر سکتے

مجھ کو لگتا ہے گھڑی جس نے بنائی ہوگی

انتظار اس کو بھی شدت سے کسی کا ہوگا

پوچھ اس شخص سے میں جس کو نہیں مل پایا

میں تجھے جتنا میسر ہوں تری قسمت ہے

بہت ہی خشکی میں گزری ہے اس برس ہولی

گلہ ہے تجھ سے کہ گیلا نہیں کیا مجھ کو

انا کا صرف محبت علاج ہے آفاقؔ

تو نوک والے مثلث کو دائرے میں ملا

حل نکل آئیں گے مسائل کے

خودکشی کرنے والو بات کرو

وصل کو ماں کے ترستے ہیں مرے بچے بھی

کیفیت ہجر کی مجھ پر ہی نہیں طاری ہے

مل نہیں سکتا جو میں نے کھو دیا

موت کا کوئی بھی متبادل نہیں

ایک سورہ فاتحہ اور چار قل پڑھ دیجیے

جو تھا پیارا اس کی برسی ہے گزارش دوستو

اندھیرے کا تصور کیا ہے بولوں

اندھیرا روشنی سے چل رہا ہے

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے