صابر آفاق کی اشعار

197
Favorite

باعتبار

موت آ جائے وبا میں یہ الگ بات مگر

ہم ترے ہجر میں ناغہ تو نہیں کر سکتے

مجھ کو لگتا ہے گھڑی جس نے بنائی ہوگی

انتظار اس کو بھی شدت سے کسی کا ہوگا

انا کا صرف محبت علاج ہے آفاقؔ

تو نوک والے مثلث کو دائرے میں ملا

ایک سورہ فاتحہ اور چار قل پڑھ دیجیے

جو تھا پیارا اس کی برسی ہے گزارش دوستو

حل نکل آئیں گے مسائل کے

خودکشی کرنے والو بات کرو

مل نہیں سکتا جو میں نے کھو دیا

موت کا کوئی بھی متبادل نہیں

وصل کو ماں کے ترستے ہیں مرے بچے بھی

کیفیت ہجر کی مجھ پر ہی نہیں طاری ہے

اندھیرے کا تصور کیا ہے بولوں

اندھیرا روشنی سے چل رہا ہے

پوچھ اس شخص سے میں جس کو نہیں مل پایا

میں تجھے جتنا میسر ہوں تری قسمت ہے

بہت ہی خشکی میں گزری ہے اس برس ہولی

گلہ ہے تجھ سے کہ گیلا نہیں کیا مجھ کو