Safiya Shamim's Photo'

صفیہ شمیم

1920 - 2008 | راول پنڈی, پاکستان

صفیہ شمیم کی اشعار

ہونا ہے درد عشق سے گر لذت آشنا

دل کو خراب تلخیٔ ہجراں تو کیجیے

جس کو دل سے لگا کے رکھا تھا

وہ خزانہ لٹا گئے آنسو

ہوش آیا تو کہیں کچھ بھی نہ تھا

ہم بھی کس بزم میں جا بیٹھے تھے

دشت گلزار ہوا جاتا ہے

کیا یہاں اہل وفا بیٹھے تھے

رونا مجھے خزاں کا نہیں کچھ مگر شمیمؔ

اس کا گلہ ہے آئی چمن میں بہار کیوں

بہار نو کی پھر ہے آمد آمد

چمن اجڑا کوئی پھر ہم نفس کیا