غزل

تیغ کھینچے ہوئے کھڑا کیا ہے

نعمان شوق

جاگتے میں بھی خواب دیکھے ہیں

نعمان شوق

جینا عذاب کیوں ہے یہ کیا ہو گیا مجھے

نعمان شوق

خوابوں کے آسرے پہ بہت دن جیے ہو تم

نعمان شوق

دوستی کچھ نہیں الفت کا صلہ کچھ بھی نہیں

نعمان شوق

کہو تو آج بتا دیں تمہیں حقیقت بھی

نعمان شوق

یہ تمنا ہے کہ اب اور تمنا نہ کریں

نعمان شوق

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI