غزل 24

اشعار 27

اک وہی شخص مجھ کو یاد رہا

جس کو سمجھا تھا بھول جاؤں گا

  • شیئر کیجیے

جھوٹی امید کی انگلی کو پکڑنا چھوڑو

درد سے بات کرو درد سے لڑنا چھوڑو

کیسے ہو کیا ہے حال مت پوچھو

مجھ سے مشکل سوال مت پوچھو

نکلے تھے دونوں بھیس بدل کے تو کیا عجب

میں ڈھونڈتا خدا کو پھرا اور خدا مجھے

یہ تمنا ہے کہ اب اور تمنا نہ کریں

شعر کہتے رہیں چپ چاپ تقاضا نہ کریں

کتاب 1

کو بہ کو

 

1976

 

آڈیو 7

تیغ کھینچے ہوئے کھڑا کیا ہے

جاگتے میں بھی خواب دیکھے ہیں

جینا عذاب کیوں ہے یہ کیا ہو گیا مجھے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

  • جاوید اختر جاوید اختر بھائی