911
Favorite

باعتبار

اک وہی شخص مجھ کو یاد رہا

جس کو سمجھا تھا بھول جاؤں گا

جھوٹی امید کی انگلی کو پکڑنا چھوڑو

درد سے بات کرو درد سے لڑنا چھوڑو

کیسے ہو کیا ہے حال مت پوچھو

مجھ سے مشکل سوال مت پوچھو

نکلے تھے دونوں بھیس بدل کے تو کیا عجب

میں ڈھونڈتا خدا کو پھرا اور خدا مجھے

یہ تمنا ہے کہ اب اور تمنا نہ کریں

شعر کہتے رہیں چپ چاپ تقاضا نہ کریں

زندگی ہم سے تو اس درجہ تغافل نہ برت

ہم بھی شامل تھے ترے چاہنے والوں میں کبھی

وہ بھی ہمارے نام سے بیگانے ہو گئے

ہم کو بھی سچ ہے ان سے محبت نہیں رہی

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہ ہو مگر

پہلے سا جوش پہلے سی شدت نہیں رہی

ہم جو پہلے کہیں ملے ہوتے

اور ہی اپنے سلسلے ہوتے

دیکھے جو میری نیکی کو شک کی نگاہ سے

وہ آدمی بھی تو مرے اندر ہے کیا کروں

وہ ایک خواب جو پھر لوٹ کر نہیں آیا

وہ اک خیال جسے میں بھلا نہیں سکتا

اپنی عادت کہ سب سے سب کہہ دیں

شہر کا ہے مزاج سناٹا

جھانکتے رات کے گریباں سے

ہم نے سو آفتاب دیکھے ہیں

جس سے سارے چراغ جلتے تھے

وہ چراغ آج کچھ بجھا سا تھا

یہ الگ بات کہ وہ مجھ سے خفا رہتا ہے

میں اک انسان ہوں اور مجھ میں خدا رہتا ہے

زندگی اس قدر کٹھن کیوں ہے

آدمی کی بھلا خطا کیا ہے

چاند سورج کی طرح تم بھی ہو قدرت کا کھیل

جیسے ہو ویسے رہو بننا بگڑنا چھوڑو

کوئی شے ایک سی نہیں رہتی

عمر ڈھلتی ہے غم بدلتے ہیں

گفتگو تیر سی لگی دل میں

اب ہے شاید علاج سناٹا

جب یہ مانا کہ دل میں ڈر ہے بہت

تب کہیں جا کے دل سے ڈر نکلا

کچھ تو اپنے لئے بھی رکھنا ہے

زخم اوروں کو کیوں دکھائیں سب

کچھ تو میں بھی ڈرا ڈرا سا تھا

اور کچھ راستا نیا سا تھا

خالی برآمدوں نے مجھے دیکھ کر کہا

کیا بات ہے اداس سے کچھ لگ رہے ہو تم

ہزار چاہیں مگر چھوٹ ہی نہیں سکتی

بڑی عجیب ہے یہ مےکشی کی عادت بھی

بت سمجھتے تھے جس کو سارے لوگ

وہ مرے واسطے خدا سا تھا

مجھے خبر نہ تھی اس گھر میں کتنے کمرے ہیں

میں کیسے لے کے وہاں ساری داستاں جاتا

کیا نہیں جانتا مجھے کوئی

کیا نہیں شہر میں وہ گھر باقی